امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 30 اکتوبر: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر میں دو سرکاری ملازمین کو ملی ٹینسی سے وابستگی کے الزام میں آرٹیکل 311 کے تحت ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور کے مطابق، برطرف شدہ ملازمین میں غلام حسین شامل ہیں، جو محکمہ تعلیم میں استاد کے طور پر تعینات تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ کے لیے اوور گراؤنڈ ورکر کے طور پر کام کر رہے تھے، ملی ٹنیٹوں سے روابط رکھتے تھے اور ریاسی ضلع میں بھرتی اور فنڈنگ میں مدد فراہم کرتے تھے۔
دوسرے برطرف ملازم مجید اقبال ڈار ہیں، جو ایک استاد اور سابق لیب اسسٹنٹ رہے ہیں۔ ان پر نشیلی اشیاء کے ذریعے ملی ٹینسی کی مالی معاونت، نوجوانوں کی انتہا پسندی کی جانب ترغیب، اور آئی ای ڈی سازشوں میں شمولیت جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، وہ حراست کے دوران بھی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
حکومتِ جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ ریاستی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ (کے این او)








