امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں سے کشمیر راست ریل خدمات کے لیے عوام کو مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ حکام نے رواں سال کے آخر تک راست ٹرین خدمات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جموں ریلوے ڈویژن میں جاری تمام آپریشنل اور ترقیاتی کام 30 نومبر تک مکمل کر لیے جائیں گے، جس کے بعد جموں سے سرینگر تک براہِ راست ریل سروس شروع ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ریلوے حکام کو امید ہے کہ ’’یہ تاریخی منصوبہ سال کے اختتام سے قبل ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔‘‘
انڈین ریلویز کے مطابق، فی الوقت ’’وندے بھارت ایکسپریس‘‘ کٹرہ (ضلع ریاسی) سے کشمیر کے درمیان چل رہی ہے، مگر جلد ہی ٹرین براہِ راست جموں ریلوے اسٹیشن سے سرینگر تک پٹریوں پر دوڑے گی۔ حکام نے مزید بتایا کہ حالیہ مہینوں میں اچانک آئی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کام کی رفتار کچھ سست پڑ گئی تھی، تاہم اب تعمیراتی سرگرمیاں پوری رفتار سے جاری ہیں اور تمام اہداف مقررہ وقت پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ایک سینئر ریلوے افسر کے مطابق جموں ریلوے اسٹیشن پر سول اسٹرکچر اور پٹریوں سے متعلقہ دونوں طرح کے کام آخری مرحلے میں ہیں۔ ٹریک بچھانے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ نئے پلیٹ فارم، جدید سہولیات، ویٹنگ ایریاز اور اسٹیشن بلڈنگ بھی جلد تیار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پروجیکٹ کی پیش رفت پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ جلد از جلد جموں سے سرینگر راست کنکٹیویٹی بحال کی جا سکے۔‘‘
اُدھم پور – سرینگر – بارہمولہ ریل لنک منصوبہ بھارت کے سب سے مشکل اور تاریخی ریلوے منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو ہمالیائی پہاڑوں کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔ اس روٹ پر دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل – چناب پل – اور ملک کا پہلا کیبل اسٹے ریلوے پل انجی کھڈ پل بھی موجود ہیں۔ ان شاہکار منصوبوں نے بھارت کو عالمی ریلوے نقشے پر منفرد مقام عطا کیا ہے۔










