امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، ۸ نومبر: جموں و کشمیر کے خصوصی درجے پر حملہ ۲۰۱۹ میں نہیں بلکہ ۲۰۱۵ میں اس وقت شروع ہوا جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائی، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا۔
انہوں نے کہا، ’’بی جے پی نے جموں و کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ہم سے سب کچھ چھین لیا گیا، نقشہ بدل گیا، ہماری شناخت خطرے میں ہے اور خصوصی درجہ ختم ہو گیا،‘‘ عمر عبداللہ نے بڈگام اسمبلی حلقہ کے مرگند علاقے میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے اپوزیشن جماعت پی ڈی پی پر بی جے پی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا الزام لگایا۔
’’۲۰۱۴ کے انتخابات میں مرحوم مفتی محمد سعید اور ان کی بیٹی ہر دروازے پر جا کر بی جے پی کو باہر رکھنے کی بات کرتے تھے۔ عوام نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیا، مگر انتخابات کے فوراً بعد وہ (پی ڈی پی) بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا بیٹھے،‘‘ این سی رہنما نے کہا۔
بڈگام اسمبلی حلقہ میں ضمنی انتخابات ۱۱ نومبر کو ہورہے ہیں کیونکہ عبداللہ نے پچھلے سال یہ نشست خالی کی تھی اور گاندربل نشست اپنے پاس رکھی تھی جو انہوں نے ۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں بھی جیتی تھی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے خصوصی درجے پر حملہ ۲۰۱۹ میں نہیں بلکہ ۲۰۱۵ میں ہوا جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائی۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت میں رہ کر انہوں نے ہماری جڑوں پر وار کیا… آج اگر میں ایک ریاست کا نہیں بلکہ یونین ٹریٹری کا وزیراعلیٰ ہوں تو یہ انہی کی وجہ سے ہے۔ جی ایس ٹی اور سرفیسی ایکٹ کس نے لایا؟ انہوں نے۔ زوال ۲۰۱۹ میں نہیں، ۲۰۱۵ میں شروع ہوا،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی نے آج تک اپنی غلطیوں پر معافی نہیں مانگی۔
’’انہوں نے اپنی غلطیوں پر معافی نہیں مانگی۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں،‘‘ عبداللہ نے کہا۔
عمر عبداللہ نے بڈگام کے ووٹروں کو یاد دلایا کہ ضمنی انتخابات کا نتیجہ حکومت پر اثر انداز نہیں ہوگا لیکن اگر حکمراں جماعت کا امیدوار جیت گیا تو علاقے میں ترقی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’بڈگام کا ووٹ وزیراعلیٰ کا فیصلہ نہیں کرے گا، وہ پچھلے سال ہو چکا۔ یہ ووٹ بڈگام کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن نہ حکومت بنائے گا نہ گرائے گا۔
’’یہ حکومت دو یا تین مہینے میں نہیں جا رہی، ابھی چار سال باقی ہیں۔ کیا آپ یہ موقع کھونا چاہیں گے؟ اگر نہیں تو علاج آپ کے ہاتھ میں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بڈگام کے عوام کے پاس دو ایم ایل اے ہوں گے، کیونکہ وہ خود بھی اس حلقے کے لئے کام کریں گے۔
’’آپ کے پاس دو ایم ایل اے ہوں گے۔ ایک خریدو، ایک مفت پاؤ۔ وہ واحد امیدوار (آغا سید محمود) ہیں جنہیں کابینہ اور وزیراعلیٰ دونوں کی حمایت حاصل ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں رہنے اور اپوزیشن میں رہنے میں فرق ہے۔
’’اگر دونوں ایک جیسے ہوتے تو لوگ حکومت کے پیچھے کیوں دوڑتے؟ حکومت میں رہ کر زیادہ کام ہوتا ہے۔ میں جانتا ہوں کیونکہ میں ۲۰۰۹ میں حکومت میں بھی ایم ایل اے رہا اور ۲۰۱۴ میں اپوزیشن میں بھی۔ میں بیروہ میں اتنا کام نہیں کر پایا جتنا گاندربل میں کیا،‘‘ عبداللہ نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا۔
’’ہمیں اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ہم نے بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملایا۔ اگر ہم نے بی جے پی سے اتحاد کیا ہوتا تو ریاستی درجہ کب کا بحال ہو چکا ہوتا۔ ہمیں حکمرانی میں کوئی دقت نہ ہوتی، ہمارے افسران کو ہماری مرضی کے بغیر تبدیل نہ کیا جاتا،‘‘ انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد جماعت ہے جو جموں و کشمیر میں بی جے پی کے خلاف لڑ رہی ہے۔
’’جب پی ڈی پی ووٹ مانگنے آئے تو ان سے پوچھنا کہ ناگروٹہ میں ان کا امیدوار کہاں ہے؟ کسی جماعت نے وہاں امیدوار نہیں اتارا، صرف ہم نے۔ ہم نے کانگریس کے لیے نشست چھوڑنا چاہی، مگر رات گئے فون آیا کہ وہ نہیں لڑنا چاہتے، تو ہمیں راتوں رات امیدوار تیار کرنا پڑا۔ یہ سب ایک ہی صف میں ہیں،‘‘ عبداللہ نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس دھوکہ دہی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔’’ہم وہی ہیں جو ہیں۔ صحیح یا غلط، فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے گزشتہ سال بڈگام کی نشست چھوڑ دی، مگر انہوں نے اس علاقے کو نظر انداز نہیں کیا۔
’’میں شاید بڈگام کا ایم ایل اے نہیں رہا لیکن بڈگام میں ہم نے اتنا ہی خرچ کیا جتنا گاندربل میں — تقریباً ۱۱۰ کروڑ روپے کے کام ہوئے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ بڈگام میں ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی، اور یہ بھی کہا کہ وسطی کشمیر کا یہ ضلع وادی میں نئے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم اور اکیڈمی کے لیے موزوں ترین جگہ ہے۔
انہوں نے کہا’’بڈگام کو کچھ قدرتی فائدے حاصل ہیں — ایئرپورٹ قریب ہے، ریلوے بھی ہے، نئی ہائی وے بھی نزدیک ہے۔ کشمیر میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم اور اکیڈمی کے لیے بڈگام سے بہتر جگہ کوئی نہیں، جہاں بین الاقوامی اور آئی پی ایل میچز بھی کھیلے جا سکیں،‘‘ ۔(ایجنسیاں)









