امت نیوز ڈیسک //
ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے سوشل میڈیا کا غلط استعمال سے متعلق معاملے میں جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر ونگ نے اتوار کی صبح وادی میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سی آئی کے کی ٹیموں نے پلوامہ، شوپیاں، سری نگر، بارہمولہ اور کولگام اضلاع میں چھاپے مارے اور کئی رہائشی مکانات کی تلاشی لی۔ اس دوران سی آئی کے نے گیجٹس ضبط کر لیے۔ اس سے سوشل میڈیا کو مبینہ طور پر نفرت انگیز اور ملک مخالف سرگرمیوں کو پھیلانے کے لیے استعمال کرنے سے متعلق جانچ کی جائے گی۔
سی آئی کے ٹیموں کو متعلقہ تھانوں کے پولیس اہلکاروں نے اپنے اپنے علاقوں میں چھاپوں کو کامیاب بنانے میں مدد فراہم کی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تلاشی کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپ سمیت ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئے جنہیں مزید تفتیش کے لیے فرانزک تجزیہ کے لیے بھیجا جائے گا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، حالانکہ سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔
یہ چھاپے ایک دن کے بعد ہوئے جب پولیس نے اوور گراؤنڈ ورکرز کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا جو پاکستان سے باہر کام کرنے والے دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے۔
پولیس نے کہا کہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں پورے کشمیر میں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر سے کام کرنے والے ہینڈلرز سے وابستہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔
کولگام میں باب پیٹی گرفتار:
کولگام کے محمد پورہ علاقے میں کاؤنٹر انٹلی جنس کشمیر نے صبح کے ابتدائی اوقات میں محمد یوسف ڈار ولد غلام محمد ڈار کے رہائشی مکان پر اچانک چھاپہ مارا۔
اطلاعات کے مطابق، سی آئی کے اہلکاروں نے گھر کی مکمل تلاشی لی جس دوران کئی اہم اشیاء کا معائنہ کیا گیا اور ایک موبائل فون ضبط کیا گیا کارروائی کے دوران محمد یوسف ڈار اور ان کی بیٹی کو حراست میں لے لیا گیا، جنہیں بعد میں مزید پوچھ گچھ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیشی ایجنسی کو کچھ اہم انٹیلی جنس ان پٹس موصول ہوئے تھے جن کی بنیاد پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت اچانک بڑی تعداد میں سی آئی کے اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد کسی کو بھی آمد و رفت کی اجازت نہیں دی گئی۔ چھاپہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
دوسری جانب، انتظامیہ یا سی آئی کے کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ مقامی سطح پر اس کارروائی کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں، جبکہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات حساس نوعیت کی ہیں اور مزید تفصیلات جلد سامنے آسکتی ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع میں سی آئی کے اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں، جن کا مقصد مشکوک سرگرمیوں کی جانچ اور ممکنہ روابط کی نشاندہی کرنا بتایا جا رہا ہے۔
مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ علاقے میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔









