امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 26 نومبر:جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز شری ماتا ویشنوی دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں مذہب کی بنیاد پر داخلوں کے مطالبے پر شدید تنقید کی۔ بی جے پی کے اس مؤقف کے جواب میں کہ ہندو طلبہ کو ترجیح ملنی چاہیے کیونکہ ادارہ ماتا ویشنوی دیوی دربار کے نذرانوں سے چلتا ہے، عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آج تعلیم کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیکل کالجوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ مسلمان یا غیر ہندو یہاں نہ پڑھیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میرٹ کو چھوڑ کر مذہب کو داخلے کا معیار بنایا گیا تو ’’ملک کے آئین کا کیا بنے گا؟‘‘
وزیراعلیٰ نے جامعہ ضیاء العلوم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ ہمیشہ میرٹ اور آئینی اقدار کے مطابق تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کے سرپرست مولانا غلام قادر صاحب نے حکومت کے ساتھ مل کر سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آفتوں کے وقت بھی مدد کی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جامعہ کے طلبہ نے یو پی ایس سی، کے اے ایس اور کے پی ایس جیسے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے مولانا غلام قادر صاحب اور جامعہ سے اپنے خاندانی تعلق کا بھی ذکر کیا۔
آخر میں انہوں نے جامعہ ضیاء العلوم کے علمائے کرام، اساتذہ اور طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔










