امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: نیشنل کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی، جس کا اجلاس 27 اور 28 نومبر 2025 کو ہوا، نے اہم سیاسی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر واپس دینے کا مطالبہ دہرایا۔
اپنی پہلی قرارداد میں کمیٹی نے ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے اپنی "اٹل وابستگی” کو دہرایا اور کہا کہ یہ عوام کی امنگوں اور وقار کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
دوسری قرارداد میں حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کرے، کیونکہ اس کی یقین دہانی پارلیمنٹ میں متعدد بار کرائی جا چکی ہے اور اس کا تذکرہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے بھی کیا ہے۔
کمیٹی نے دہلی میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پرامن معاشرے میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
نوگام دھماکے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے ورکنگ کمیٹی نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ معیاری عملی طریقہ کار (SOPs) سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی مکمل جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔
پورے بھارت میں جموں و کشمیر کے طلبہ، تاجروں اور رہائشیوں کو ہراساں کیے جانے کی بڑھتی ہوئی رپورٹس پر کمیٹی نے “چنیدہ نشانہ بنانے” کی مذمت کی۔ اس نے کہا کہ کشمیریوں کو کسی بھی واقعے کی بنیاد پر بدنام نہ کیا جائے اور ریاستی حکومتیں ان کی سلامتی، عزت اور تحفظ یقینی بنائیں۔ کمیٹی کے مطابق: “ہر کشمیری دہشت گرد یا دہشت گردی کا حامی نہیں ہے۔”
پارٹی نے اپنے منشور کی تکمیل کے عزم کو بھی دہرایا اور کہا کہ عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔
اپنی آخری قرارداد میں ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت عوام کی امنگوں اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنا کام اسی جذبے سے جاری رکھے۔











