امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 13 دسمبر : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز بجلی کے بلوں، اسمارٹ میٹروں اور بجلی سپلائی سے متعلق جاری تنقید پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور سسٹم کی ناکامی کی اصل وجہ اسمارٹ میٹر نہیں بلکہ صارفین کی جانب سے بجلی کے اصل لوڈ کو کم ظاہر کرنا اور بڑے پیمانے پر ناجائز استعمال ہے۔
گلمرگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ اس لیے دباؤ کا شکار ہے کیونکہ صارفین بجلی کے استعمال کی درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا،
“معاہدے کے وقت لوگ چار بلب کا لوڈ ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعد میں دس ہیٹر استعمال کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے اس صورت میں سسٹم بیٹھ جائے گا۔”
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ حکومت عوام کو ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرنے کے خلاف نہیں ہے، تاہم شفافیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا،
“اپنا لوڈ ایمانداری سے ظاہر کریں۔ اسی بنیاد پر ٹرانسفارمر نصب کیے جائیں گے اور پھر وہ خراب نہیں ہوں گے۔”
وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ جن علاقوں میں اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے ہیں وہاں ٹرانسفارمروں کے خراب ہونے اور بجلی کی بار بار بندش کے مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا،
“جہاں میٹر لگے ہیں وہاں اوور لوڈنگ نہیں ہو رہی۔ سسٹم کی ناکامی ان علاقوں میں واضح ہے جہاں جھوٹے لوڈ پر معاہدے کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے بجلی شعبے پر پڑنے والے سنگین مالی اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ محکمہ بھاری خسارے میں چل رہا ہے۔
“ہم لوگوں کو ضرورت کے مطابق بجلی اس لیے فراہم نہیں کر پا رہے کیونکہ جتنی بجلی استعمال ہو رہی ہے، اس کے مطابق ہمیں آمدنی نہیں مل رہی۔ ہم نقصان میں جا رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمارٹ میٹرنگ کا مقصد عوام کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ پاور سسٹم کو مستحکم کرنا، منصفانہ بلنگ کو یقینی بنانا اور بجلی کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک لوڈ کا حقیقت پسندانہ تخمینہ اور آمدنی کی وصولی ممکن نہیں بنائی جاتی، سخت سردیوں میں بلا تعطل بجلی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔ [کے این ٹی]









