جموں و کشمیر ویسے تو پوری دنیا میں اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، لیکن جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جو کوڑا کرکٹ کے لیے جانی جاتی ہے، کیونکہ پورے شہر کا کچرا جمع کرنے کے لیے اس مقام کو کئی دہائیوں قبل مختص کیا گیا تھا۔ آج اس جگہ پر لاکھوں ٹن کچرا جمع ہو چکا ہے۔تاہم اب یہ اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ اچھن میں قائم اس ڈمپنگ سائٹ پر جمع قریب 12 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو صاف کرنے کے لیے سائنسی طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔کچرے کا یہ پہاڑ 75 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو سرینگر شہر کے تجارتی مرکز لال چوک سے صرف 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔مسلسل بدبو اور بیماریوں کے پھیلاؤ نے اچھن اور اس کے ملحقہ آبادی والے علاقوں میں عام زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، یہاں تک کہ کئی خاندانوں نے اپنے گھروں کو کم قیمت پر فروخت کر کے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔
اچھن کو 1985 میں کھلے کچرا پھینکنے کے مقام کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جو اس وقت کھیت اور دلدلی زمین کا حصہ تھا۔ اب یہاں روزانہ قریب 500 میٹرک ٹن بغیر چھانٹے ہوئے کچرے کو پھینکا جاتا ہے۔اب سرینگر میونسپل کارپوریشن نےاس کچرے کو بایو مائننگ کے ذریعے صاف کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
موجودہ ایس ایم سی کمشنر فضل الحسیب نے میڈیا کو بتایا کہ اب کچرے کو سائنسی بنیادوں پر بایو مائننگ کے ذریعے صاف کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ سال 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ایس ایم سی اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور کیوں ہوئی؟
دراصل، غیر سائنسی طریقے سے کچرا پھینکنے پر ایس ایم سی کو کئی مرتبہ نیشنل گرین ٹریبونل سے پھٹکار سننی پڑی ہے۔
ایس ایم سی نے مارچ 2025 میں ٹریبونل کے سامنے ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اچھن لینڈ فل کو دو سال میں صاف کر دیا جائے گا۔
ٹریبونل نے میونسپل کارپوریشن پر 12 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا اور 2017 سے 2025 تک تعینات آٹھ سابق کمشنرز کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔
یہ فیصلہ کئی سالوں کی ماحولیاتی غفلت کے بعد سامنے آیا، جس کے نتیجے میں ٹھوس کچرے کی غیر سائنسی تلفی اور قریبی آبی ذرائع کی آلودگی ہوئی۔
یہ مقدمہ راجہ مظفر بھٹ بنام یونین آف انڈیا و دیگران کے عنوان سے 20 مارچ 2025 کو تین رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس پرکاش سری واستو (چیئرمین)، جسٹس سدھیر اگروال (جوڈیشل ممبر) اور ڈاکٹر سنتھل ویل (ماحولیاتی ماہر) شامل تھے۔ٹریبونل نے ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص انتظام پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور نوٹ کیا کہ لینڈ فل سے نکلنے والا زہریلا رس آس پاس کے پانی کے ذخائر میں بہہ رہا ہے، جو ٹھوس کچرا مینجمنٹ رولز 2016 اور واٹر (پروٹیکشن اینڈ کنٹرول آف پولیوشن) ایکٹ 1974 کی صریح خلاف ورزی ہے۔کارروائی کے دوران اُس وقت کے کمشنر ڈاکٹر اویس احمد نے ٹریبونل کو بتایا کہ شہر میں اچھن سائٹ پر تقریباً 11.5 لاکھ میٹرک ٹن پرانا کچرا جمع ہو چکا ہے، جسے صاف کرنے کے لیے بایو مائننگ کے عمل میں کم از کم دو سال لگیں گے۔اسی دوران جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی نے ٹریبونل کو آگاہ کیا کہ ان آٹھ سابق کمشنرز کے خلاف سول کارروائی شروع کی جا رہی ہے جنہوں نے اپنے ادوار میں مؤثر ویسٹ مینجمنٹ پالیسی نافذ کرنے میں ناکامی ظاہر کی۔زیرِ تفتیش افسران میں ڈاکٹر شفقت خان، ریاض احمد وانی، پیرزادہ حفیظ اللہ شاہ، میر طارق علی، خورشید احمد سنائی، غزنفر علی، اطہر عامر خان، اور ڈاکٹر اویس احمد شامل ہیں۔
ان کے خلاف ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1986 کے تحت قانونی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ٹریبونل کی پھٹکار کے بعد، ایس ایم سی نے ایک جامع ایکشن پلان پیش کیا ہے جس کا مقصد مارچ 2027 تک 100 فیصد سائنسی ویسٹ پراسیسنگ حاصل کرنا ہے۔
یہ منصوبہ چار مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔آخری مرحلے میں، جو 2027 کے اوائل تک مکمل ہونے کی توقع ہے، اچھن لینڈ فل کی مکمل بحالی اور 10 ہزار درخت لگا کر گرین بفر زون قائم کیا جائے گا۔احتساب اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے، این جی ٹی نے ایس ایم سی کو ماہانہ پیش رفت رپورٹس جمع کرانے اور جے کے پی سی سی کو سہ ماہی جائزے کرنے کی ہدایت دی ہے۔دوسری جانب، اس منصوبے کے اعلان کے بعد اچھن کے رہائشیوں نے بھی راحت کی سانس لی ہے۔
اُمت نیوز سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا کہ”اچھن سے نکلنے والی بدبو نے ہماری زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔“عبدالرشید بٹ نامی شخص نے بتایا:”اچھن ڈمپنگ سائٹ نے ہمارے رشتوں پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ لوگ ہمارے گھروں میں آنا پسند نہیں کرتے، حتیٰ کہ رشتے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔“تاہم، عبدالرشید اور دیگر رہائشی اب پرامید ہیں کہ ڈمپنگ سائٹ کے اس کھلے زہر کو اب ٹھکانے لگایا جائے گا۔









