امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر میں ریزرویشن کے خلاف مجوزہ طلبہ احتجاج سے قبل سیاسی رہنماؤں کے گھروں کے باہر جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جن رہنماؤں کے گھروں کے باہر سیکیورٹی تعینات کی گئی ہے ان میں رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی، ایم ایل اے پلوامہ وحید پرہ اور سابق میئر سرینگر جُنید عظیم متو شامل ہیں۔
آغا سید روح اللہ مہدی کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کے گھر کے باہر مسلح پولیس اہلکاروں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ پوسٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ اقدام پرامن اور طلبہ کے حق میں ہونے والے احتجاج کو دبانے کے لیے پیشگی کریک ڈاؤن تو نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ انتظامیہ عوام کو اس غیر معمولی تعیناتی پر وضاحت دینے کی پابند ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ سخت سیکیورٹی کے باوجود طلبہ کے دھرنے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
ادھر ایم ایل اے وحید پرہ کے ایک قریبی ساتھی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ وحید پرہ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ پوسٹ میں احتجاج سے قبل نقل و حرکت پر پابندی کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اسے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش بتایا گیا۔
سابق میئر سرینگر جُنید عظیم متو نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو ہونے والے طلبہ دھرنے میں شرکت کے اعلان کے چند گھنٹے قبل ہی ان کے گھر کے باہر جے کے پی اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ انہوں نے اس تعیناتی کو حد سے زیادہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔ متو نے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے سے کسی پالیسی کو نہ تو جواز مل سکتا ہے اور نہ ہی پائیداری، اور وہ طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں رات گئے سیاسی رہنماؤں کی رہائش گاہوں کے قریب پولیس گاڑیاں اور مسلح اہلکار نظر آئے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ طلبہ کا یہ دھرنا اتوار کو متوقع ہے، جس میں جموں و کشمیر میں ریزرویشن کی ریشنلائزیشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ریزرویشن کوٹہ پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم اس کی رپورٹ اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہے۔ متعدد ایم ایل ایز کا کہنا ہے کہ رپورٹ راج بھون کے پاس زیر غور ہے اور حکومت اپنا کام مکمل کر چکی ہے۔











