امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 28 دسمبر : نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے اتوار کو اپنی نظر بندی اور مجوزہ احتجاج سے قبل طلبہ کی گرفتاریوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے منتخب حکومت سے ریزرویشن معاملے، سیاسی قیدیوں اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے کردار پر واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
روح اللہ نے سوال کیا کہ انہیں اور طلبہ کو کس کے حکم پر نظر بند اور گرفتار کیا گیا، اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام منتخب حکومت کے بجائے ایل جی انتظامیہ کی ہدایت پر ہوا ہوگا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا حکومت فائل کے راج بھون میں زیرِ التوا ہونے کو ذمہ داری سے بچنے کا بہانہ بناتی رہے گی۔
انہوں نے طلبہ کے احتجاج پر منتخب حکومت کی خاموشی پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر حکومت ذمہ دار نہیں تھی تو وزرا طلبہ کے ساتھ احتجاج میں کیوں شامل نہیں ہوئے۔
روح اللہ نے ریزرویشن، سیاسی قیدیوں اور انڈر ٹرائل قیدیوں کے معاملات پر بھی حکومت سے عملی اقدام کا مطالبہ کیا اور چیلنج دیا کہ آیا وزیر اعلیٰ ان کے ساتھ دہلی جا کر پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق اسمبلی کی 2024 کی قرارداد پر بحث کا مطالبہ کریں گے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام سوالات منتخب حکومت سے واضح جواب اور عملی قدم کے متقاضی ہیں، نہ کہ مسلسل خاموشی کے۔ [کے این ٹی]










