اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کشمیر میں ہر روز اوسطاً تین افراد کی موت مختلف سڑک حادثات میں واقع ہوئی ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سڑکیں اب موت کے راستے بن گئی ہیں۔ شیر خوار بچوں سے لے کر معمر افراد اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی ان خطرناک راستوں کا آسان نوالہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے دن کی شروعات کسی سڑک حادثے کی خبر سے ہونا اب معمول بن گیا ہے۔ شام آتے آتے متعدد جانوں کا ضائع ہونا یقینی بات ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ جب سے لوگوں نے شوق کے علاوہ مجبور ہو کر گاڑیوں کی خریداری میں وسعت لائی ہے، تب سے سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے لیکن سڑکیں چھوٹی پڑ رہی ہیں۔ آئیے، کچھ وجوہات کا مختصر ذکر کرتے ہیں جن کی بنا پر کشمیر میں سڑک حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
پہلی وجہ ناقص سڑکیں ہیں۔ ناقص سڑکوں کی وجہ سے گاڑیاں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب سڑکوں میں گڑھے پڑ جاتے ہیں اور ناقص ڈرینیج نظام کی وجہ سے گندہ پانی جمع ہو جاتا ہے، تو سڑک حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ہماری سڑکوں پر بچھایا گیا تارکول چند ہی دنوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر اٹھ جاتا ہے یا اٹھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہماری سڑکوں پر موت کا رقص جاری رہتا ہے۔ ان سڑکوں کے ساتھ ہر کسی کی اپنی دلچسپی ہے۔ سرکاری محکموں کے افراد سال بھر ہماری سڑکوں کو توڑتے اور سنوارتے رہتے ہیں، جس سے عام لوگوں کی زندگیوں میں مصیبتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ کوئی بیلچہ لے کر تو کوئی ہتھوڑا لے کر ہماری نازک سڑکوں میں خم اور گڑھوں کی آبیاری کرتا رہتا ہے۔
دوسری وجہ سرکاری نااہلی ہے۔ جتنے بھی پیسے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، وہ کبھی بھی جائز طریقوں سے استعمال نہیں کیے جاتے۔ کچھ بے ایمان لوگ چور دروازے سے داخل ہو کر اپنا حصہ اڑا لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بدعنوانی میں ملوث کچھ ٹھیکیدار بچا کچا مال ہڑپ لیتے ہیں، اور آخر کار ایک روپے کا بیسواں حصہ ہی سڑکوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی حرام خور گھات لگا کر بیٹھے رہتے ہیں، جو موقع پاتے ہی چھپٹ مار کر اپنا حصہ آسانی سے لے جاتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ سرکار کی آنکھوں کے سامنے چوریاں ہوتی ہیں اور عوام لکیر کے فقیروں کی طرح گھستے رہتے ہیں۔
تیسری وجہ نابالغوں کے ہاتھوں میں گاڑیاں تھما دینا ہے۔ آج جس طرف بھی نظر دوڑائی جاتی ہے، نابالغ لڑکے اور لڑکیاں سٹیئرنگ تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تجربے سے ثابت ہے کہ یہ نابالغ بیشتر سڑک حادثات میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایک نااہل لڑکا یا لڑکی کیسے قومی شاہراہوں یا گاؤں کی تنگ سڑکوں پر گاڑیوں کو محفوظ طریقے سے چلا سکتے ہیں، یہ عقل سے بعید ہے۔
چوتھی وجہ سڑکوں کا ناجائز قبضہ ہے۔ ہم اتنے گرے ہوئے ہیں کہ سڑکوں کو اپنی تحویل میں لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں، ہم میں سے بیشتر لوگ سڑکوں پر ناجائز قبضہ جماتے ہیں۔ ہر سال سڑکیں چوڑائی اور لمبائی دونوں میں سکڑتی جاتی ہیں۔ دکاندار اپنا سامان تقریباً سڑک پر ہی کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس سے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور بہت سی جانوں کا مفت میں نقصان ہوتا ہے۔
اس کے اثرات واضح ہیں۔ جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں ذکر کیا گیا ہے، ہر روز کشمیر میں اوسطاً تین افراد کی جانیں مختلف ٹریفک حادثات میں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس سے موجودہ نسلوں کے علاوہ آنے والی نسلوں پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ اس موت کے رقص پر قدغن لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے ٹریفک قوانین کو سخت بنانا ہوگا۔ جو بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑا جائے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ کسی بھی قسم کی رشتہ داری اور سیاسی پہنچ سرکاری قوانین کے آڑے نہیں آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ نابالغوں کے ہاتھوں میں گاڑیوں کی سٹیئرنگ دینے سے مکمل پرہیز کیا جانا چاہیے، یہ قتل کے مترادف ہے۔ ان باتوں کے علاوہ، ان سرکاری افسروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے جو غبن اور جھوٹ کا راستہ اختیار کر کے عوام کا پیسہ لوٹتے ہیں۔ ان کا مناسب آڈٹ ہونا چاہیے اور ان سے پائی پائی کا حساب لیا جانا چاہیے۔ کسی بھی قسم کی نرمی برتنے سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔
مزید برآں، لوگوں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ سڑک پر ناجائز قبضہ کرنے سے کیا فائدہ ملتا ہے۔ دکانداروں کو بھی سڑکوں پر سامان رکھنے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ گاڑیاں آئے دن بڑھ رہی ہیں، لیکن سڑکیں سکڑ رہی ہیں۔ اس تضاد سے بھرے ماحول میں عقل اور قانون کا صحیح استعمال ٹریفک حادثات میں کمی لا سکتا ہے۔ امید ہے کہ ہم زندگی کو ترجیح دے کر ہوش کے ساتھ اپنی گاڑیاں چلائیں گے اور خود بھی سڑکوں کو نقصان پہنچانے سے پرہیز کریں گے۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔









