امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز قانون ساز اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔ عمر عبداللہ، جو یونین ٹیریٹری کے وزیر خزانہ بھی ہیں، نے وقفۂ سوالات کے بعد بجٹ ایوان میں پیش کیا۔ یہ نیشنل کانفرنس حکومت کا یونین ٹیریٹری بننے کے بعد دوسرا بجٹ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ایک جدید، ترقی پسند اور اقتصادی طور پر متحرک خطے میں تبدیل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس بجٹ کا مجموعی حجم ایک لاکھ 18 ہزار کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے لیے 43 ہزار 290 کروڑ روپے مختص کیے تھے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دو ہزار کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
غریب کنبوں کے لیے بڑی راحت
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتودیا انا یوجنا (AAY) کے تحت آنے والے غریب ترین کنبوں کے لیے سالانہ چھ مفت ایل پی جی گیس سلینڈر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انتہائی غریب کنبوں کو براہِ راست راحت پہنچائے گا۔
سرحدی علاقوں میں بلیٹ پروف ایمبولنس
حکومت نے سرحدی علاقوں میں صحت خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے بلیٹ پروف ایمبولنس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے نزدیک رہنے والے عوام کو ہنگامی حالات میں فوری اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
عارضی ملازمین کی ریگولرائزیشن
اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف محکموں میں یومیہ اجرت اور عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے جلد ایک منظم اور مرحلہ وار روڈ میپ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے گزشتہ برس ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے معاملے کے قانونی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔اس فیصلے سے جموں و کشمیر میں پچاس ہزار سے زائد عارضی ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
نمبرداروں اور چوکیداروں کے اعزازیہ میں اضافہ نہیں
حکومت نے واضح کیا کہ فی الحال نمبرداروں اور چوکیداروں کے ماہانہ اعزازیہ میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ نمبرداروں کو 1501 روپے اور چوکیداروں کو 1500 روپے ماہانہ اعزازیہ بدستور ملتا رہے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت عوامی فلاح، سماجی انصاف اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا جا سکے۔





