امت نیوز ڈیسک //
جموں: روس یوکرین جنگ کے دوران جموں و کشمیر کے ایک اور نوجوان کی ہلاکت نے جموں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ جموں کے پالن والا علاقے سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سچن کھجوریا اس جنگ میں جان کی بازی ہار گئے جو حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کا دوسرا افسوسناک واقعہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق سچن کھجوریا تعلیم کے سلسلے میں اسٹڈی ویزا پر روس گئے تھے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ وہاں انہیں غیر جنگی ‘ہیلپر’ کی ملازمت کا فریب دیا گیا، لیکن بعد ازاں انہیں براہِ راست جنگی محاذ پر بھیج دیا گیا۔ اتوار کے روز جب ان کا جسدِ خاکی جموں پہنچا تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سچن کو بنکر سے متعلق کام دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم حقیقت میں انہیں خطرناک جنگی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا۔ اس سے قبل آر ایس پورہ کے گووانا گاؤں کے رہائشی 24 سالہ منجندر سنگھ بھی اسی طرح کے حالات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ وہ دسمبر 2024 میں تعلیم کی غرض سے روس گئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں بھی اچھی تنخواہ اور محفوظ کام کا لالچ دے کر فوج میں شامل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگست 2025 میں انہیں تربیت دی گئی اور بعد میں جنگی علاقے میں بھیج دیا گیا، جہاں جنوری 2026 میں ان کی موت واقع ہو گئی۔






