(بارہمولہ/17اپریل) ملک گیر نشا مکت بھارت ابھیان کے تحت آج جمعہ نماز کے بعد ضلع بارہمولہ میں بیوپار منڈل کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر انسدادِ منشیات بیداری سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم پروگرام کی قیادت بیوپار منڈل کے صدر انجینئر طارق احمد مغلو نے کی۔
سمینار کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس میں سول سوسائٹی کے ارکان، اسکولی طلباء، کاروباری حضرات اور معزز شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن انجینئر ملک یاسین حسن (قانونی مشیر، بارہمولہ لمبردار چوکیدار ایسوسی ایشن) سمیت بیوپار منڈل کے تمام اراکین بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران مختلف مقررین نے منشیات کے بڑھتے رجحان، ٹریفک مسائل اور پلاسٹک (پالیتھین) کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی۔ خطاب کرنے والوں میں مفتی عبدالرحیم گیلانی، ضلع بار ایسوسی ایشن بارہمولہ کی صدر سینئر ایڈووکیٹ نیلوفر جان، ڈاکٹر وسیم نذیر میر، سینئر ایڈووکیٹ عامر مشتاق، اے سی آر ارشد احمد اور ایس ایچ او بارہمولہ شامل تھے۔ مقررین نے معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
بیوپار منڈل کے صدر انجینئر طارق احمد مغلؤ نے تقریب کے دوران شرکاء اور طلباء سے عہد لیا کہ وہ منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اس کے مضر اثرات کے حوالے سے آگاہی پھیلائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر پالیتھین نہ پھینکیں اور اپنی گاڑیاں غلط طریقے سے کھڑی نہ کریں تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔
اپنے خطاب میں سینئر ایڈووکیٹ نیلوفر جان نے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے برائی کے خلاف آواز اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ معاشرے میں اصلاح ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے اور کمیونٹیز کو متحرک کرنے میں میڈیا نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی اور فرائض میں کوتاہی کو بھی معاشرتی برائی قرار دیا۔
سمینار کے اختتام پر اتحاد، مشترکہ ذمہ داری اور مسلسل بیداری کے ذریعے منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔










