امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 12 مئی: این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت کے معاملے پر اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شراب پیتے ہیں، وہ کسی نہ کسی طریقے سے اسے حاصل کر ہی لیتے ہیں۔
سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے سوال اٹھایا کہ جب جموں و کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولی جا رہی تھیں، اُس وقت آج شور مچانے والے لوگ کہاں تھے۔
انہوں نے کہا،”جو لوگ شراب پیتے ہیں، وہ کہیں نہ کہیں سے شراب حاصل کر لیتے ہیں۔ جب شراب کی دکانیں کھولی جا رہی تھیں تو اُس وقت یہ لوگ کہاں تھے؟“
فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ حکومت شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے، اور اگر ناقدین شراب کی دکانیں بند کروانا چاہتے ہیں تو انہیں اس آمدنی کا متبادل فراہم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا،”شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہمیں دے دیں، ہم دو منٹ میں شراب کی دکانیں بند کر دیں گے۔“
ان کے اس بیان کے بعد جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں کے قیام اور توسیع سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔






