امت نیوز ڈیسک //
بارہمولہ : جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے آج شمالی کشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی کا دورہ کیا، جہاں ان کے ہمراہ ضلع انتظامیہ بارہمولہ اور ایم ایل اے اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ قابلِ گریز تھا اور اسے نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم اس واقعہ نے لوگوں کو جنگ اور سرحدی کشیدگی کی حقیقی تباہ کاریوں کا احساس دلایا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں سری نگر اور جموں کے لوگ جنگی صورتحال کو دور سے دیکھتے تھے، مگر حالیہ ڈرون دراندازی کے بعد پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ جنگ دراصل کیا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ڈرون سری نگر اور جموں تک پہنچے تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ تباہی اور خوف کی حقیقت کیا ہے۔ سریندر چودھری نے سرحدی علاقوں کے عوام کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اوڑی کے لوگوں نے ہمیشہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔
سریندر چودھری نے کہا کہ سرحدی بستیوں کے بزرگوں نے واضح کیا کہ وہ گولیوں اور حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کے آباؤ اجداد نے کبھی سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات نے عوامی سوچ میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے اور اب لوگ جنگ کے خطرناک نتائج کو بہتر انداز میں سمجھنے لگے ہیں۔





