امت نیوز ڈیسک//
مولانا ارشد مدنی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو “قومی جانور” قرار دیا جائے تاکہ گائے کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کے واقعات پر روک لگ سکے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مولانا مدنی نے کہا کہ جب ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو مقدس مانتی ہے اور اسے ماں کا درجہ دیتی ہے تو پھر حکومت اسے قومی جانور قرار دینے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر گائے کے مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران جذباتی مسائل کو جان بوجھ کر ہوا دی جاتی ہے، جن میں گائے کے نام پر سیاست بھی شامل ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دیا جاتا ہے تو مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کریں گے، کیونکہ اس کے بعد گائے کے نام پر ہونے والی ہجومی تشدد اور تشدد کی وارداتوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے گریز کریں، کیونکہ اسلام دوسرے مذاہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔
مولانا مدنی نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے ایسا قانون بنایا جائے جس کا اطلاق ملک کی تمام ریاستوں میں یکساں طور پر کیا جائے۔





