• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

الفت بشیر/آہن گاندربل

by امت ڈیسک
22/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ انسان ہنس تو رہا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش طوفان بپا ہوتا ہے۔ زندگی میں بعض لوگ ہمارے دل کے اس قدر قریب ہو جاتے ہیں کہ ان کی اداسی ہماری اپنی اداسی بن جاتی ہے، ان کی بےچینی ہماری روح کو بےسکون کر دیتی ہے۔ میں اپنی محرومیاں تو شاید قبول کر لوں، اگر میری قسمت میں خوشیاں کم بھی ہوں تو صبر کر سکتی ہوں، مگر جن لوگوں سے میرا دل جڑا ہوا ہے، ان کے نصیب کی ادھوری خوشیاں، ان کی خاموش اذیتیں اور ان کی آنکھوں میں چھپی ہوئی تھکن مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ ان کے دل کی تڑپ کو میں محسوس کرتی ہوں، ان کے ہر چھپے ہوئے آنسو کی چبھن میرے دل تک پہنچتی ہے، اور یہی احساس کئی بار مجھے بےاختیار رُلا دیتا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی محبت سے پہلے ذات دیکھی جاتی ہے، خاندان دیکھا جاتا ہے، روزگار اور حیثیت دیکھی جاتی ہے۔ انسان کے کردار، اس کے خلوص اور اس کی محبت کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کس خاندان سے ہے، کیا کرتا ہے، کتنی دولت رکھتا ہے… مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا وہ دل سے سچا ہے؟ کیا وہ کسی کو خوش رکھ سکتا ہے؟ کیا وہ محبت کی قدر جانتا ہے؟ آخر کیا صرف بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہی سکون سے جیتے ہیں؟ کیا وہ لوگ جو بڑے افسر نہیں ہوتے، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھاتے؟ کیا محبت صرف امیروں اور اونچی ذات والوں کا حق ہے؟ کیوں ہمارے معاشرے میں آج بھی انسان کی سچی خوشیوں کو رسموں، ذاتوں اور جھوٹی شان کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟

کبھی کبھی دل یہ سوچ کر ٹوٹ جاتا ہے کہ آخر والدین اپنی اولاد کی خاموش تکلیف کیوں نہیں سمجھ پاتے؟ کیوں ان کی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسو نظر نہیں آتے؟ کیوں ان کے دل کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ اولاد صرف آسائش نہیں مانگتی، وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے اپنی مرضی سے جینے کا حق ملے، اسے وہ محبت ملے جس میں سکون ہو، عزت ہو اور اپنائیت ہو۔ مگر افسوس، ہمارے سماج میں اکثر خوشیوں سے زیادہ لوگوں کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔

میں اللہ پاک سے دل کی گہرائیوں سے دعا کرتی ہوں کہ ہر اس دل کو سکون عطا فرمائے جو خاموشی سے ٹوٹ رہا ہے، ہر اس انسان کی قسمت میں وہ خوشیاں لکھ دے جن کے لیے وہ برسوں سے ترس رہا ہے، اور ہمارے والدین کے دلوں میں وہ نرمی پیدا فرمائے کہ وہ اپنی اولاد کے چہروں کے پیچھے چھپے ہوئے درد کو سمجھ سکیں۔ آمین۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

‘موزوں وقت’ کے پنجے میں پھنسا جموں کشمیر کا ریاستی درجہ !

Next Post

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

22/05/2026
طلوعِ روح کا عظیم کارواں

طلوعِ روح کا عظیم کارواں

15/05/2026
قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

دکھے رویی پر چبے تو سویی

15/05/2026
بالکونی ۔۔۔میرا عکس میری تحریر

بالکونی ۔۔۔۔ میرا عکس، میری تحریر

15/05/2026
اشاعت توحید احیائے سنت کے داعی:مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانیؒ بارہمولہ

جامع الکمالات حضرت علامہ شیخ یعقوب صرفی کشمیری

08/05/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہمارے زخموں کا مداوا کون کریں؟

08/05/2026
Next Post
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »