• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۱۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
علی اسپورٹس اکیڈمی سے پدم شری تک:فیصل علی ڈار نے کھیل کے میدانوں کو امید کی راہوں میں بدل دیا

علی اسپورٹس اکیڈمی سے پدم شری تک:فیصل علی ڈار نے کھیل کے میدانوں کو امید کی راہوں میں بدل دیا

اعجاز بابا

by امت ڈیسک
12/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جب وادی کو چیمپئنز کی تلاش تھی، اُس نے چیمپئن پیدا کیے۔ جب نوجوانوں کو سمت درکار تھی، اُس نے ایک تحریک برپا کی۔ فیصل علی ڈار کی داستان محض کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ پسینے، قربانی اور خدمت سے لکھی گئی ہیں

کشمیر کی دلکش وادیوں میں، جہاں بلند و بالا پہاڑ صدیوں کی تاریخ کے خاموش گواہ ہیں، کبھی کبھار ایسی شخصیات جنم لیتی ہیں جن کی داستان جغرافیائی سرحدوں سے نکل کر قومی تحریک بن جاتی ہے۔ پدم شری فیصل علی ڈار کی زندگی بھی ایسی ہی ایک غیرمعمولی داستان ہے، جو عزم، بصیرت، خدمت اور انسان دوستی کے روشن ابواب سے مزین ہے۔

فیصل علی ڈار، جو عام طور پر "ماسٹر فیصل” کے نام سے مشہور ہیں، ضلع بانڈی پورہ، جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور خطے کے ممتاز ترین اسپورٹس مینٹورز اور سماجی مصلحین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ علی اسپورٹس اکیڈمی کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے دو دہائیوں سے زائد عرصہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود، کھیلوں کے فروغ، منشیات مخالف مہمات، خواتین کے سیلف ڈیفنس پروگراموں اور سماجی ترقی کے لیے وقف کیا ہے۔ اپنی دور اندیش قیادت اور گراس روٹ سطح کی کاوشوں کے ذریعے انہوں نے ہزاروں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کی، قومی و بین الاقوامی چیمپئن تیار کیے اور کھیلوں کو سماجی تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ میں تبدیل کیا۔ کھیلوں اور سماجی خدمات کے میدان میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے باوقار شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا، جس سے وہ کشمیر اور پورے ملک کے لیے فخر و اعزاز کا باعث بنے۔

ضلع بانڈی پورہ کی سادہ گلیوں سے لے کر قومی اعزازات کے بلند ایوانوں تک کا سفر اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ عظمت وراثت میں نہیں ملتی بلکہ انتھک محنت، غیر متزلزل یقین اور سماج کی خدمت کے جذبے سے حاصل کی جاتی ہے۔

دو دہائیوں سے زائد عرصے سے فیصل علی ڈار نے اپنی زندگی ایک ایسے مشن کے لیے وقف کر رکھی ہے جو ذاتی کامیابی سے کہیں بلند ہے۔ وہ ایک ماہر اسپورٹس پروفیشنل، مارشل آرٹس کوچ، موٹیویشنل اسپیکر، سیلف ڈیفنس ٹرینر اور خواتین کی بااختیاری کے علمبردار ہیں۔ آج وہ ملک کے نمایاں ترین گراس روٹ اسپورٹس لیڈرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ان کی خدمات کا سب سے بڑا اعتراف اُس وقت سامنے آیا جب انہیں کھیلوں اور سماجی تبدیلی کے میدان میں غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں پدم شری سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز صرف تمغوں اور کامیابیوں کا اعتراف نہیں تھا بلکہ ایک ایسی تحریک کا اعتراف تھا جس نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں بدل ڈالیں۔

اس عظیم سفر کی بنیاد 2003 میں رکھی گئی جب فیصل علی ڈار نے بانڈی پورہ میں علی اسپورٹس اکیڈمی قائم کی۔ اُس دور میں جب کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ محدود اور مواقع نایاب تھے، بہت سے لوگوں نے اس خواب کو محض ایک خواہش سمجھا، مگر فیصل علی ڈار نے اُن حالات میں بھی امکانات دیکھے جہاں دوسروں کو صرف رکاوٹیں نظر آتی تھیں۔

ایک چھوٹی سی کوشش آج جموں و کشمیر کی سب سے بڑی اسپورٹس تحریکوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اکیڈمی آج تقریباً 17 ہزار بچوں کو 18 مختلف کھیلوں کی تربیت فراہم کر رہی ہے، وہ بھی انتہائی معمولی فیس پر، تاکہ غربت کسی بچے کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

مارشل آرٹس سے شروع ہونے والا یہ سفر آج فٹبال، کرکٹ، رگبی، والی بال، بیڈمنٹن، ایکواٹکس اور متعدد دیگر کھیلوں تک پھیل چکا ہے۔ اکیڈمی نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے بے شمار کھلاڑی پیدا کیے ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کا نام روشن کیا۔
مگر فیصل علی ڈار کی کہانی صرف تمغوں اور ٹرافیوں کی کہانی نہیں ہے۔

انہوں نے بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ کھیل صرف مقابلہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں نوجوان مختلف سماجی چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، انہوں نے کھیل کے میدانوں کو امید، نظم و ضبط اور خود اعتمادی کے مراکز میں تبدیل کر دیا۔

علی اسپورٹس اکیڈمی منشیات کے خلاف جدوجہد، جسمانی و ذہنی صحت کے فروغ، قیادت سازی اور حب الوطنی کے فروغ کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن گئی۔ کھیلوں کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو زندگی کا ایک مثبت راستہ ملا۔

ان کی شخصیت کا سب سے متاثر کن پہلو شمولیت اور مساوات کے لیے اُن کی وابستگی ہے۔ جہاں اکثر ادارے صرف کارکردگی پر توجہ دیتے ہیں، وہیں فیصل علی ڈار نے ہر بچے کے لیے مواقع پیدا کرنے کو اپنی ترجیح بنایا۔

اکیڈمی بصارت سے محروم، سماعت سے محروم اور دیگر خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کو بھی کھیلوں کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ نابینا بچوں کے لیے فٹبال اسٹیڈیم کا ان کا خواب صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو معاشرے میں برابری اور شمولیت کی نئی مثال قائم کرتا ہے۔

ان کی خدمات کھیلوں تک محدود نہیں رہیں۔

2014 کے تباہ کن سیلاب کے دوران فیصل علی ڈار اور ان کی ٹیم نے امدادی و بچاؤ کارروائیوں میں صفِ اول کا کردار ادا کیا۔ سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کی مدد کی گئی اور انسانی خدمت کی ایک روشن مثال قائم ہوئی۔ انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں "سیویئر آف کشمیر” کے اعزاز سے نوازا گیا۔

کووڈ-19 وبا کے دوران بھی وہ خاموش تماشائی نہیں بنے رہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ضرورت مند خاندانوں تک خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء پہنچائیں۔ ان خدمات کے اعتراف میں انہیں نیشنل کووڈ وارئیر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان کی کاوشوں کو قومی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔

2017 میں فوربز ایشیا میگزین نے انہیں نمایاں مقام دیا۔ 2019 میں انہیں راشٹرپتی بھون مدعو کیا گیا جہاں صدرِ ہند کے دفتر نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا ماڈل ملک بھر میں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ انہیں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نیشنل ایوارڈ، نشہ مکت بھارت ابھیان ایوارڈ اور متعدد قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ لیکن ان تمام اعزازات کے باوجود، فیصل علی ڈار کی اصل شناخت ان کی عاجزی، سادگی اور خدمت خلق کا جذبہ ہے۔

وہ آج بھی خود کو سب سے پہلے ایک کوچ، پھر ایک رہنما اور سب سے بڑھ کر سماج کا خادم سمجھتے ہیں۔ ان کا فلسفہ نہایت سادہ مگر گہرا ہے:”کھیل صرف چیمپئن پیدا نہ کریں، بلکہ اچھے انسان بھی پیدا کریں۔”

آج علی اسپورٹس اکیڈمی ماحولیاتی تحفظ، خواتین کی خودمختاری، خون عطیہ مہمات، نوجوانوں کی قیادت سازی، سیاحت کے فروغ، امن سازی اور سماجی بیداری جیسے متعدد شعبوں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔

اکیڈمی کے ہر تمغے کے پیچھے ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے کہ کھیل معاشروں کو جوڑ سکتے ہیں، منقسم دلوں کو قریب لا سکتے ہیں، خواتین کو بااختیار بنا سکتے ہیں اور نوجوانوں کو روشن مستقبل دے سکتے ہیں۔

فیصل علی ڈار کی کہانی دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ اُن ہزاروں بچوں کے خوابوں کی کہانی ہے جنہیں ایک کوچ نے خود اعتمادی عطا کی۔ یہ ایک خطے کے اعتماد کی بحالی کی کہانی ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اصل قیادت اپنی کامیابیوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی کامیابیوں سے پہچانی جاتی ہے۔

جب کشمیر ترقی، امن اور امید کے نئے ابواب رقم کر رہا ہے تو فیصل علی ڈار کا نام اس کے روشن ترین سپوتوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔

بانڈی پورہ کے ایک معمولی کھیل مرکز سے لے کر پدم شری کے قومی اعزاز تک کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ غیرمعمولی کامیابیاں اکثر ایک سادہ خواب سے جنم لیتی ہیں۔ اور شاید یہی اس پوری داستان کا سب سے بڑا سبق ہے۔

پدم شری فیصل علی ڈار نے صرف ایک اکیڈمی تعمیر نہیں کی، بلکہ امید پیدا کی، اعتماد پیدا کیا اور ایک ایسا لازوال ورثہ چھوڑا جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتا رہے گا۔ وہ کوچ جس نے ایک نسل بدل دی.

بانڈی پورہ کے کھیل کے میدانوں سے پدم شری کے اعزاز تک، فیصل علی ڈار نے کھیل کو امید، خود اعتمادی، شمولیت اور قومی وقار کی ایک عظیم تحریک میں تبدیل کر دیا

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں و کشمیر میں ہاکی ٹیلنٹ کی مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے، مستقبل کے چیمپئنز یوٹی سے ابھریں گے: ایل جی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

جہالت کی انتہا: وقتی علاج ضروری ہے

05/06/2026
ماں: ایک انمول تحفہ

ماں: ایک انمول تحفہ

05/06/2026
جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

"سفید کوٹ کے پیچھے چھپا ظلم”

05/06/2026
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

لوگ بدل جاتے ہیں- خاموش تبدیلیوں کا نفسیاتی اور جذباتی المیہ

22/05/2026
جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

جدید نوجوان کا نازک ذہن:ایک خاموش چیخ ایک بکھرتی نسل

22/05/2026
خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

خاموش اذیتیں، ٹوٹتے دل اور ہمارے سماج کا بےحس چہرہ

22/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »