• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
انجینئر رشید فتح کے قریب، محمد عمر ہار تسلیم کر لی

سات برس کی اسیری، عوامی مینڈیٹ اور ایک مشکل فیصلہ:کیا انجینئر رشید بارہمولہ کی پارلیمانی نشست چھوڑ دیں گے؟

ڈیسک رپورٹ/عاصم فاروق

by امت ڈیسک
26/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں عوامی مینڈیٹ، عدالتی عمل اور سیاسی نمائندگی ایک دوسرے سے ٹکراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بارہمولہ سے ریکارڈ ووٹوں سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان عبدالرشید شیخ (انجینئر رشید) نے مسلسل سات برس سے زائد عرصہ جیل میں رہنے اور اپنے حلقۂ انتخاب کی مؤثر نمائندگی نہ کر سکنے کی وجہ سے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔

ان کی جماعت عوامی اتحاد پارٹی (AIP) نے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے تمام اٹھارہ اسمبلی حلقوں میں پارٹی کارکنوں، عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے دو روزہ مشاورت کے بعد حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔

پارٹی کے مطابق انجینئر رشید کا احساس ہے کہ جن لاکھوں لوگوں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ بھیجا، وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اُتر پا رہے ہیں کیونکہ مسلسل قید نے انہیں عوام سے عملاً دور رکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر وہ عوام کی خدمت ہی نہیں کر سکتے تو پھر منصب سے چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔

انجینئر سے عوامی لیڈر تک

ضلع کپواڑہ کے لنگیٹ علاقے سے تعلق رکھنے والے انجینئر عبدالرشید نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز محکمہ تعمیرات میں بطور سول انجینئر کیا، مگر جلد ہی سرکاری ملازمت چھوڑ کر سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ ابتدا میں وہ مرحوم عبدالغنی لون کی پیپلز کانفرنس سے وابستہ رہے، تاہم بعد میں اپنی الگ جماعت’’عوامی اتحاد پارٹی‘‘ قائم کی۔

روایتی سیاسی جماعتوں سے مختلف انداز، بے باک لب و لہجہ اور عام آدمی کے مسائل پر مسلسل آواز بلند کرنے کے باعث وہ مختصر عرصے میں شمالی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ بن گئے۔

اسمبلی میں منفرد اور جارحانہ آواز

2008 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے لنگیٹ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیا۔ 2014 میں بھی انہوں نے اپنی نشست برقرار رکھی۔

جموں و کشمیر اسمبلی میں انجینئر رشید کا شمار ان اراکین میں ہوتا تھا جو حکومتی پالیسیوں، انسانی حقوق، عوامی مشکلات، سیکورٹی معاملات اور مسئلہ کشمیر پر کھل کر اظہار خیال کرتے تھے۔ ان کی تقاریر اکثر ایوان کے اندر اور باہر موضوع بحث بنتی رہیں۔ کئی مواقع پر احتجاجی انداز اختیار کرنے کی وجہ سے وہ قومی میڈیا کی سرخیوں میں بھی رہے۔

حریت سے قربت یا الگ سیاسی شناخت؟

انجینئر رشید باضابطہ طور پر کبھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رکن نہیں رہے، تاہم کشمیر کے سیاسی تنازع، عوام کے حقِ خود ارادیت، انسانی حقوق کی پامالیوں، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مذاکراتی عمل کی حمایت کے باعث ان کے سیاسی مؤقف کو اکثر حریت پسند حلقوں سے قریب سمجھا جاتا رہا۔

دوسری جانب وہ خود مسلسل یہ کہتے رہے کہ ان کی سیاست کا محور کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق ہیں اور انہیں کسی ایک خانے میں محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔

2019 کی گرفتاری اور طویل اسیری

اگست 2019 میں، جب جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے سے کچھ ہی روز قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ تھا، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے انجینئر رشید کو مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا۔

ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد سے وہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔

انجینئر رشید مسلسل ان الزامات کو بے بنیاد، سیاسی محرکات پر مبنی اور انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ سرکاری ایجنسیاں عدالت میں اپنے الزامات پر قائم ہیں۔ مقدمہ ابھی تک زیر سماعت ہے اور کسی عدالت نے ان الزامات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔

جیل سے الیکشن، تاریخ ساز فتح

2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انجینئر رشید نے جیل سے ہی بارہمولہ پارلیمانی نشست پر انتخاب لڑا۔

نتائج نے سیاسی مبصرین کو حیران کردیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر کشمیر کی حالیہ انتخابی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب رقم کیا۔

اس کامیابی کو بہت سے مبصرین نے شمالی کشمیر کے عوام کے سیاسی مزاج، احتجاجی ووٹ اور روایتی جماعتوں سے ناراضی کے اظہار کے طور پر دیکھا، جبکہ ان کے حامیوں نے اسے انجینئر رشید پر عوام کے غیر معمولی اعتماد سے تعبیر کیا۔

پارلیمنٹ کی رکنیت مگر نمائندگی کا بحران

انتخابی کامیابی کے باوجود انجینئر رشید کی مستقل رہائی ممکن نہ ہوسکی۔ اگرچہ انہیں چند مواقع پر عبوری ضمانت اور محدود مدت کے لیے پارلیمنٹ میں شرکت کی اجازت ملی، تاہم وہ معمول کے مطابق نہ اپنے حلقے میں جا سکے اور نہ ہی پارلیمانی ذمہ داریاں پوری طرح انجام دے سکے۔

اسی صورتحال نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ انصاف کر پا رہے ہیں یا نہیں۔

عوامی اتحاد پارٹی کا محتاط مؤقف

عوامی اتحاد پارٹی نے واضح کیا ہے کہ استعفیٰ کا فیصلہ کسی فرد کا نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہوگا۔

پارٹی کے مطابق بارہمولہ کے تمام اسمبلی حلقوں میں مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور کارکنوں، مقامی قیادت اور عوامی نمائندوں کی رائے کی روشنی میں ہی حتمی اعلان کیا جائے گا۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر انجینئر رشید واقعی مستعفی ہوتے ہیں تو بارہمولہ میں ضمنی انتخاب کی راہ ہموار ہوگی، جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انجینئر رشید کا ممکنہ استعفیٰ صرف ایک رکن پارلیمان کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ اگر کوئی منتخب نمائندہ برسوں تک قید میں رہے اور اپنے حلقے کے عوام سے رابطہ نہ رکھ سکے تو عوامی مینڈیٹ کا حقیقی مصرف کیا رہ جاتا ہے؟

آنے والے چند دنوں میں عوامی اتحاد پارٹی کی مشاورت اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے گی، مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ سات برس کی اسیری نے کشمیر کی سیاست میں ایک ایسے منتخب نمائندے کو کھڑا کر دیا ہے جو عوام کے ووٹ سے پارلیمنٹ تو پہنچ گیا، مگر اپنے ووٹروں تک پہنچنے سے آج بھی محروم ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

26/06/2026
کشمیر میں ‘نارملسی’ کے بیان پر کانگریس لیڈر ششی تھرور کو اپنی ہی پارٹی کی تنقید کا سامنا

ششی تھرور کے کشمیر سے متعلق بیان پر کانگریس میں ہلچل، پارٹی قیادت سے اختلافات نمایاں

26/06/2026
پنجاب میں مبینہ ہراسانی کے خلاف کشمیر کو لائیو اسٹاک کی سپلائی معطل، مٹن اکانومی بحران کے دہانے پر

پنجاب میں مبینہ ہراسانی کے خلاف کشمیر کو لائیو اسٹاک کی سپلائی معطل، مٹن اکانومی بحران کے دہانے پر

26/06/2026
جی ایم سی اننت ناگ کے شعبۂ امراضِ قلب سے متعلق الزامات، ڈاکٹر معطل، تحقیقات جاری

جی ایم سی اننت ناگ کے شعبۂ امراضِ قلب سے متعلق الزامات، ڈاکٹر معطل، تحقیقات جاری

20/06/2026
امرناتھ یاترا: امسال یاتریوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچنے کا امکان

سالانہ امرناتھ یاترا: مرکزی وزارتِ داخلہ کا اعلیٰ سطحی وفد 20 اور 21 جون کو جموں و کشمیر کا دورہ کرے گا

19/06/2026
گاندربل مبینہ انکاؤنٹر: ڈھائی ماہ بعد راشد احمد مغل کی میت اہلِ خانہ کے حوالے، مجسٹریل تحقیقات کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہ آسکی

گاندربل مبینہ انکاؤنٹر: ڈھائی ماہ بعد راشد احمد مغل کی میت اہلِ خانہ کے حوالے، مجسٹریل تحقیقات کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہ آسکی

19/06/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »