• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جولائی ۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
انٹیلی جنس بیورو کی قیادت میں تبدیلی:

انٹیلی جنس بیورو کی قیادت میں تبدیلی:

ڈاکٹر مہیش دکشت کا تقرر، کشمیر میں پانچ برس کی خدمات اور نئی دہلی کی داخلی سلامتی کی آئندہ حکمتِ عملی

by امت ڈیسک
03/07/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ڈیسک رپورٹ/شاہد لطیف

مرکزی حکومت نے 1993 بیچ کے انڈین پولیس سروس کے سینئر افسر ڈاکٹر مہیش دکشت کو ملک کی اہم داخلی انٹیلی جنس ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کا نیا ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ وہ اس عہدے پر تاپن کمار ڈیکا کی جگہ دو سالہ مدت کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں قائم کابینہ کی تقرری کمیٹی نے دی ہے۔ حکومت نے انہیں اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے سروس میں توسیع بھی دی ہے۔

ڈاکٹر مہیش دکشت پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے پولیس سروس اختیار کی اور اپنے کیریئر کا بڑا حصہ انٹیلی جنس بیورو میں گزارا۔ انہیں عسکریت پسندی روک تھام، داخلی سلامتی، شورش زدہ علاقوں میں انٹیلی جنس آپریشنز اور مختلف سیکورٹی اداروں کے درمیان تال میل قائم کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

ڈاکٹر دکشت نےپہلی جولائی کو، انٹیلی جنس بیورو کے سبکدوش ہونے والے سربراہ تاپن کمار ڈیکا کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال لی، جنہوں نے 2022 سے ادارے کی قیادت کی اور بعد ازاں دو مرتبہ مدتِ ملازمت میں توسیع حاصل کی۔

1887 میں قائم ہونے والا انٹیلی جنس بیورو ہندوستان کا قدیم ترین انٹیلی جنس ادارہ ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری داخلی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، علیحدگی پسند تحریکوں، فرقہ وارانہ کشیدگی، بیرونی مداخلت، سائبر خطرات اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات جمع کرنا اور حکومت کو بروقت آگاہ کرنا ہے۔ یہ ادارہ اگرچہ عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں رہتا، لیکن ملک کی داخلی سلامتی کی پالیسی سازی میں اس کا کردار نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مہیش دکشت کا پس منظر روایتی پولیس افسروں سے مختلف ہے۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی، لیکن بعد میں سِول سروس میں شامل ہو کر پولیس سروس اختیار کی۔ ابتدائی عرصے میں انہوں نے آندھرا پردیش میں بطور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس خدمات انجام دیں، تاہم جلد ہی انٹیلی جنس بیورو میں ان کی تقرری ہوگئی اور پھر تقریباً پوری عملی زندگی اسی ادارے سے وابستہ رہی۔

گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران وہ بہار، ناگالینڈ، شمال مشرقی ریاستوں، لداخ، نکسل متاثرہ علاقوں اور جموں و کشمیر میں متعدد حساس ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ انسدادِ دہشت گردی، سرحد پار دراندازی، بائیں بازو کی انتہا پسندی اور بین الادارہ جاتی انٹیلی جنس رابطہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر دکشت کی پیشہ ورانہ شناخت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی کشمیر میں طویل خدمات ہیں۔وہ پہلی مرتبہ 2009 سے 2012 کے درمیان وادی میں تعینات رہے، جب کشمیر مسلسل ملی ٹنسی، احتجاجی تحریکوں اور سنگ باری کے واقعات کا مرکز تھا۔

اس کے بعد 2020 میں انہیں سرینگر میں انٹیلی جنس بیورو کے سبسڈری انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی)کا سربراہ مقرر کیا گیا، جہاں وہ تقریباً پانچ برس تک تعینات رہے۔ اسی دفتر کے دائرۂ کار میں جموں و کشمیر کے ساتھ لداخ اور لیہ کے انٹیلی جنس معاملات بھی شامل ہیں۔

یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی جب پانچ اگست 2019 کو دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد وادی میں ایک نئی سیاسی اور انتظامی صورت حال پیدا ہوچکی تھی۔ اس دوران سکیورٹی اداروں کے سامنے روایتی عسکریت کے ساتھ ساتھ’’ہائبرڈ ملی ٹنسی‘‘، سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندی، ہدفی قتل، سرحد پار دراندازی اور عوامی ردِعمل جیسے کئی نئے چیلنجز موجود تھے۔

مختلف قومی اخبارات کے مطابق ڈاکٹر دکشت نے اس عرصے میں زمینی انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنانے، سیکورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے اور حساس حالات میں صورت حال کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر مہیش دکشت کے کشمیر میں قیام کے دوران ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، جس نے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔متعدد قومی اخبارات نے نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انہوں نے کالعدم جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے بعض حلقوں کے ساتھ رابطہ کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں میں حصہ لیا۔ ان رپورٹس کے مطابق مقصد یہ تھا کہ جماعت سے وابستہ افراد کو تشدد سے دور رکھتے ہوئے انہیں جمہوری اور انتخابی عمل میں شریک ہونے کی ترغیب دی جائے۔

اسی پس منظر میں گزشتہ برسوں کے دوران جماعت اسلامی کے بعض سابق وابستگان نےجسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) کے نام سے ایک سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دیا، جسے بعض سیاسی مبصرین نئی دہلی کی اس حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت مذہبی و سماجی حلقوں کو انتخابی سیاست میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔

2024 میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قیادت میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر دکشت پس پردہ ان سرکاری افسران میں شامل تھے جنہوں نے لیہ میں مختلف سماجی اور مذہبی نمائندوں سے رابطے کیے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر مہیش دکشت کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعلیٰ سرکاری اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں صدرِ ہند کا پولیس میڈل برائے امتیازی خدمات، پولیس میڈل برائے نمایاں خدمات اور پولیس انترک سرکشا سیوا پدک شامل ہیں۔

واضح رہےڈاکٹر مہیش دکشت ایسے وقت میں انٹیلی جنس بیورو کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب ہندوستان کو داخلی سلامتی کے کئی پیچیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔کشمیر کے تناظر میں بھی ان کی تقرری کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ وہ وادی کی سماجی، سیاسی اور سیکورٹی صورت حال سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کی نگاہیں اس بات پر مرکوز رہیں گی کہ آیا آنے والے برسوں میں نئی دہلی کی کشمیر پالیسی صرف سیکورٹی اقدامات تک محدود رہے گی یا سیاسی اعتماد سازی، مکالمے اور مختلف سماجی طبقات کی جمہوری عمل میں شمولیت کی کوششوں کو بھی مزید وسعت دی جائے گی۔

ڈاکٹر مہیش دکشت کی تقرری کو اس لحاظ سے محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ داخلی سلامتی کی پالیسی میں تسلسل اور کشمیر جیسے حساس خطے میں تجربہ رکھنے والے افسر پر اعتماد کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ اس تقرری کے عملی نتائج اور اس کے اثرات کا اندازہ آنے والے برسوں میں ہی ہو سکے گا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

امن کا دروازہ کھولنے کی اجتماعی پکار!بھارت اور پاکستان کے 116 ممتاز شہریوں کا وزرائے اعظم نریندرمودی اور شہباز شریف کے نام مشترکہ کُھلا خط

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

امن کا دروازہ کھولنے کی اجتماعی پکار!بھارت اور پاکستان کے 116 ممتاز شہریوں کا وزرائے اعظم نریندرمودی اور شہباز شریف کے نام مشترکہ کُھلا خط

03/07/2026
رام کے نام پر گھبن؟

رام کے نام پر گھبن؟

03/07/2026
بھارت و پاکستان  نے سال سے زائد تعطل کے بعد سفارتکاروں کے لیے ویزے جاری کردیے

کولمبو میں ہند۔پاک بیک چینل مذاکرات:خاموش سفارت کاری کی نئی کوشش یا محض غیر رسمی مکالمہ؟

03/07/2026
دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

03/07/2026
سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف پی ڈی پی کا  احتجاج

پی ڈی پی کا این سی حکومت پر 25 ہزار بیک ڈور بھرتیوں کا الزام،حکومت کی سخت تردید؛ شفاف میرٹ پر مبنی تقرریوں کا دعویٰ

03/07/2026
وازوان پر بحران کے سائے

وازوان پر بحران کے سائے

03/07/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »