• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جولائی ۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result

فائل فوٹو

امن کا دروازہ کھولنے کی اجتماعی پکار!بھارت اور پاکستان کے 116 ممتاز شہریوں کا وزرائے اعظم نریندرمودی اور شہباز شریف کے نام مشترکہ کُھلا خط

مذاکرات کی بحالی، کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پرامن حل، سفارتی تعلقات، تجارت، سفری روابط اور عوامی تبادلوں کی بحالی کا مطالبہ

by امت ڈیسک
03/07/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ڈیسک رپورٹ/عاصم فاروق

بھارت اور پاکستان کے ممتاز سیاست دانوں، سابق سفارت کاروں، دانش وروں، ماہرین تعلیم، صحافیوں، فنکاروں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے 116 نمائندوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم، نریندر مودی اور شہباز شریف، کے نام ایک مشترکہ کھلا خط جاری کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن، مذاکرات، معمول کے تعلقات اور باہمی تعاون کی بحالی کے لیے فوری اور بامعنی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ مشترکہ اپیل او پی شاہ، چیئرمین سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس، نئی دہلی کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی مجموعی آبادی دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، لیکن مسلسل کشیدگی اور باہمی مخاصمت کے باعث کروڑوں نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام مسلسل بداعتمادی اور محاذ آرائی کے بجائے امن، ترقی، باہمی روابط اور تعاون پر مبنی مستقبل کے مستحق ہیں۔ دستخط کنندگان کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کی کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اہم تجاویز

مشترکہ اپیل میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

  • نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز کی دوبارہ تقرری کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں۔
  •  ویزا خدمات دوبارہ شروع کی جائیں۔
  •  تمام تصفیہ طلب امور پر جامع مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جائے۔
  •  جموں و کشمیر سمیت تمام تنازعات پر 2004 سے 2007 کے دوران طے پانے والے مذاکراتی فریم ورک کی روشنی میں بات چیت بحال کی جائے اور خطے میں فوجی کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
  •  دونوں ممالک کے جائز سلامتی کے خدشات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
  • عوامی روابط، تعلیمی، ثقافتی، صحافتی، کاروباری اور مذہبی تبادلوں کو فروغ دیا جائے۔
  •  تجارتی روابط بحال کرتے ہوئے معمول کی اقتصادی سرگرمیوں اور علاقائی معاشی انضمام کو فروغ دیا جائے۔
  •  واہگہ۔اٹاری سرحد تجارت اور آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولی جائے۔
  •  سرینگر۔مظفرآباد اور دہلی۔لاہور بس سروس، سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس دوبارہ چلائی جائیں۔
  •  کرگل۔اسکردو راستہ کھولا جائے۔
  •  تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بحال کی جائیں۔
  •  کرتارپور صاحب راہداری دوبارہ فعال کی جائے اور شاردا پیٹھ تک مذہبی رسائی فراہم کی جائے۔
  •  میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور دونوں ممالک کے صحافیوں کو آزادانہ نقل و حرکت اور رپورٹنگ کی سہولت دی جائے۔

اپیل کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ دونوں حکومتیں عوام کی اُمنگوں کا احترام کرتے ہوئے تنہائی کے بجائے رابطے، مخاصمت کے بجائے مذاکرات اور تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ جنوبی ایشیا کا مستقبل امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی سے وابستہ ہے۔

بھارتی دستخط کنندگان

ڈاکٹر فاروق عبداللہ، میرواعظ عمر فاروق، محبوبہ مفتی، منی شنکر ایئر، پروفیسر منوج جھا، اے ایس دولت، جوہر سرکار، محمد یوسف تاریگامی، آغا سید حسن موسوی، شاہد صدیقی، ریتا منچندا، سندیپ پانڈے، پروفیسر سیف الدین سوز، آغا سید منتظر مہدی، عمران احمد حسن، ڈاکٹر جان دیال، للتا رام داس، ہمایوں کبیر، جینت گھوشال، پروفیسر اپوروانند، مظفر شاہ، دیا سنگھ، ایم ایم انصاری، ڈاکٹر فواد علی حلیم، ظفر منہاس، بلال غنی لون، اروند سہارن، آئی ڈی کھجوریا، بی ایل سراف، فادر سنیل روزاریو، سید عرفان شیر، ڈاکٹر مسلم جان، گوپا مکھرجی، ڈاکٹر رمیش رائنا، کمار پرشانت، این ڈی پنچولی، پرہلاد گوئنکا، سبھاش کلرا، ریتا چکرورتی، روبی ارون، کے ایس سبرامنیم، سجاد اظہر، بلکار سنگھ، سید سلیم گیلانی، بمل شرما، مالتی سبرامنیم، انیل ہیبار، امیتاو دتہ، ڈاکٹر سنیلم، سلیم انجینئر، سجادہ بشیر، بنی یادو، رومان میچی، توصیف احمد خان، سنتوش کھجوریا، ایڈووکیٹ یاسمین، راکیش یادو، کنال بنرجی، روہنی سنگھ، سنیل وٹال اور او پی شاہ۔

پاکستانی دستخط کنندگان

خورشید محمود قصوری، اشرف جہاں گیر قاضی، شمشیر احمد خان، اسفندیار بھنڈارا، امتیاز عالم، شیما کرمانی، بینا سرور، سعیدہ دیپ، اے ایچ نیر، رخشندہ خان، ماریا اقبال ترانہ، محمد مہدی، پروفیسر پرویز ہودبھائی، جی سی بجنانی، شکیل چوہدری، کلمین دُرانی، پرکاش لوہانہ، شہریار آذر، ڈاکٹر ریاض شیخ، حسان الحق، انیتا پنجانی، شمائلہ خان، سلیمہ ہاشمی، سامیہ جسان، نگہت ایس خان، شبنم رشید، حبیب طاہر، حسنین جمیل فریدی، عرفان رحمان خان، محمدتحسین، پروفیسر سرفراز خان، فرحت اللہ بابر، رازی عظمی، ایڈووکیٹ فیصل صدیقی، خادم حسین، مشیل چوہدری، ایوب ملک، انور الدین، حارث خان، مہناز رحمان، شہناز احد، تاج گوہر، انور جعفری، عرفان مفتی، جاوید اختر، نزہت شیریں، عظمیٰ نورانی، صفینہ جاوید، ظاہر حسن، عامر رانا، کیپٹن پرویز محمود، مونس احمر، شگفتہ یاسر، نسیمہ زاہد اور طوبیٰ تابان۔

اس مشترکہ اپیل کو دونوں ممالک میں امن پسند حلقوں کی جانب سے ایک اہم عوامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد برصغیر میں کشیدگی کم کرنا، عوامی روابط بحال کرنا اور جنوبی ایشیا کو امن، ترقی اور باہمی اعتماد کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھا، اس کے مثبت اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ کشمیر سمیت پورے خطے کے عوام نے اس سے فائدہ اُٹھایا۔ موجودہ مشترکہ اپیل اسی احساس کی آئینہ دار ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن پائیدار امن کا راستہ بالآخر بات چیت، عوامی روابط اور باہمی اعتماد ہی سے نکلتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی سول سوسائٹی کی اپیلیں حکومتی پالیسی کا متبادل نہیں ہوتیں، تاہم یہ دونوں ملکوں کے امن پسند طبقات کی خواہشات اور عوامی اُمنگوں کی مؤثر ترجمانی ضرور کرتی ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

رام کے نام پر گھبن؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

رام کے نام پر گھبن؟

رام کے نام پر گھبن؟

03/07/2026
بھارت و پاکستان  نے سال سے زائد تعطل کے بعد سفارتکاروں کے لیے ویزے جاری کردیے

کولمبو میں ہند۔پاک بیک چینل مذاکرات:خاموش سفارت کاری کی نئی کوشش یا محض غیر رسمی مکالمہ؟

03/07/2026
دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

03/07/2026
سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف پی ڈی پی کا  احتجاج

پی ڈی پی کا این سی حکومت پر 25 ہزار بیک ڈور بھرتیوں کا الزام،حکومت کی سخت تردید؛ شفاف میرٹ پر مبنی تقرریوں کا دعویٰ

03/07/2026
وازوان پر بحران کے سائے

وازوان پر بحران کے سائے

03/07/2026
دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

این سی اپوزیشن کو احتجاج میں شامل کرنے پر کیوں مجبور؟

03/07/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »