• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جولائی ۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف پی ڈی پی کا  احتجاج

پی ڈی پی کا این سی حکومت پر 25 ہزار بیک ڈور بھرتیوں کا الزام،حکومت کی سخت تردید؛ شفاف میرٹ پر مبنی تقرریوں کا دعویٰ

محبوبہ مفتی نے نجی آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے غیر شفاف بھرتیوں کا الزام عائد کیا، جبکہ عمر عبداللہ حکومت نے تمام دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ثبوت طلب کر لیے

by امت ڈیسک
03/07/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ڈیسک رپورٹ/جہانگیر عزیز

جموں و کشمیر کی سیاست میں سرکاری ملازمتوں اور بھرتیوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر گرما گیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس (این سی) کی زیر قیادت حکومت پر گزشتہ 25 ماہ کے دوران تقریباً 25 ہزار’’بیک ڈور‘‘ تقرریاں کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی پروپیگنڈا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ہدایت پر منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کابینہ وزراء سکینہ ایتو اور جاوید احمد ڈار نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کی تمام مستقل بھرتیاں صرف میرٹ، شفافیت اور قانونی ضابطوں کے تحت انجام دی جا رہی ہیں اور کسی بھی شخص کو بیک ڈور طریقے سے ملازمت نہیں دی گئی۔

ناصر اسلم وانی نے کہا کہ اپوزیشن جان بوجھ کر عوام، بالخصوص بے روزگار نوجوانوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مرحلہ وار تمام خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے پر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس بیک ڈور تقرریوں کا کوئی ایک بھی ثبوت موجود ہے تو وہ عوام کے سامنے پیش کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آؤٹ سورسنگ اور مستقل سرکاری تقرری دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کے مطابق آؤٹ سورسنگ صرف عارضی انتظامی ضرورت کے تحت مخصوص منصوبوں میں عمل میں لائی جاتی ہے، جبکہ مستقل سرکاری ملازمتیں صرف جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (JKSSB) اور پبلک سروس کمیشن (JKPSC) جیسے اداروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
ناصر اسلم وانی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آؤٹ سورسنگ کا موجودہ نظام 2015 سے 2018 کے درمیان پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا اور موجودہ حکومت نے صرف اسی انتظامی نظام کو جاری رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومتوں کے ادوار میں جموں و کشمیر بینک اور کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز سمیت کئی اداروں میں بیک ڈور تقرریوں کے الزامات سامنے آئے تھے، جن کی تحقیقات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بھی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ نہ تو مستقل ملازمت ہے اور نہ ہی یہ ریگولر سرکاری تقرریوں کا متبادل ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف اضافی کام کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ایک عارضی انتظامی طریقہ کار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمر عبداللہ حکومت اپنے انتخابی وعدے کے مطابق ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اب تک 724 لیکچرار اور 624 پیرا میڈیکل آسامیوں کو بھرتی کے لیے متعلقہ اداروں کے سپرد کیا ہے، جبکہ تقریباً 900 ڈاکٹروں کی تقرری مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے تقریباً 500 امیدوار اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں جبکہ باقی کی تصدیقی کارروائی جاری ہے۔

سکینہ ایتو نے مزید کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کام کرنے والے افراد صرف مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں، جیسے سمگر شکشا اور مشن واتسلیہ (آئی سی پی ایس)، کے تحت تعینات کیے جاتے ہیں اور انہیں سرکاری ملازمین کو حاصل مراعات، مثلاً پنشن، گریڈ پے، سفری الاؤنس اور مہنگائی الاؤنس حاصل نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ 2015 کے بعد سرکاری محکموں کو براہ راست یومیہ اُجرت، موسمی یا عارضی ملازمین رکھنے کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا، جس کے بعد منظور شدہ ایجنسیوں کے ذریعے آؤٹ سورسنگ کا نظام نافذ کیا گیا۔ انہوں نے ایس آر او-520 اور 2018 کے بجٹ انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے کوئی نیا نظام متعارف نہیں کرایا بلکہ پہلے سے موجود پالیسی کو ہی جاری رکھا ہے۔

دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر جاوید احمد ڈار نے بھی کہا کہ آؤٹ سورسنگ ملک بھر میں مرکزی حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والی مختلف اسکیموں میں معمول کا طریقہ کار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی منظور شدہ مستقل سرکاری آسامی پر آؤٹ سورسنگ کے ذریعے تقرری نہیں کرتی۔

واضح رہے اس سے قبل پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ گزشتہ 25 ماہ کے دوران تقریباً 25 ہزار افراد کو خفیہ طور پر مختلف سرکاری محکموں میں ملازمتیں دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تقرریاں نجی آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے کی گئیں اور ان میں شفافیت یا میرٹ کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔

محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ مختلف سرکاری محکموں کی خالی آسامیوں کو وزراء، اراکین اسمبلی اور حکومتی اتحادیوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس تقرریوں سے متعلق سرکاری احکامات موجود ہیں، تاہم وہ ملازمت حاصل کرنے والے افراد کی شناخت ان کے تحفظ کے پیش نظر ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ان تقرریوں کے لیے اُمیدواروں سے دو سے تین لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔ ان کے مطابق پارٹی کو موصول ہونے والی شکایات میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو سو نجی آؤٹ سورسنگ ایجنسیاں اس عمل میں شامل تھیں۔ ان کے مطابق مختصر وقت کے لیے ایک ویب سائٹ کھولی جاتی تھی جہاں پہلے سے منتخب افراد کو فارم جمع کرانے کی اجازت دی جاتی، اور مطلوبہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ویب سائٹ بند کر دی جاتی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف محکموں میں تعینات بعض افسران وزراء اور اراکین اسمبلی سے اُمیدواروں کی فہرستیں حاصل کرکے متعلقہ آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں تک پہنچاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں نہ تو اخبارات میں اشتہارات شائع کیے گئے اور نہ ہی دیگر اہل امیدواروں کو درخواست دینے کا مساوی موقع فراہم کیا گیا۔

محبوبہ مفتی نے حکومت کے ایک لاکھ ملازمتوں کے وعدے پر بھی سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 25 ہزار آسامیاں پہلے ہی بیک ڈور طریقے سے پُر کی جا چکی ہیں تو باقی تعلیم یافتہ اور مستحق نوجوانوں کے لیے مواقع کہاں رہ جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مبینہ بھرتی عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جہاںجموں و کشمیر میں بے روزگاری ایک سنگین سماجی اور سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے، ایسے میں سرکاری ملازمتوں سے متعلق ہر دعویٰ اور الزام عوامی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ پی ڈی پی کے سنگین الزامات اور حکومت کی دوٹوک تردید نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ فی الحال دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات یا ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ معاملہ آئندہ دنوں میں ریاست کی سیاست اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین اور انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں سے متعلق اس نوعیت کے سنگین الزامات اور جوابی تردید نے نوجوانوں، بالخصوص تعلیم یافتہ بے روزگار طبقے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی مرحلے پر بھرتیوں کے عمل پر شکوک و شبہات جنم لیں تو حکومت پر لازم ہے کہ وہ مکمل شفافیت اختیار کرتے ہوئے تمام تقرریوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے، تاکہ میرٹ پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو انہیں حقائق اور دستاویزی شواہد کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے، جبکہ اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں، خصوصاً بے روزگار نوجوانوں میں یہ احساس نمایاں ہے کہ سرکاری ملازمتوں کا ہر موقع مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر فراہم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ خالی آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں مزید تیزی لائے، تمام تقرریاں کھلے اشتہار، میرٹ اور قانونی تقاضوں کے مطابق یقینی بنائے اور اپنے ایک لاکھ روزگار فراہم کرنے کے وعدے پر عملی پیش رفت کو بھی باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھے، تاکہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی جائز توقعات پوری ہوں اور سرکاری نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

موسمیاتی تبدیلی:کیا ہم اپنی جنت خود اُجاڑ رہے ہیں؟

Next Post

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

03/07/2026
وازوان پر بحران کے سائے

وازوان پر بحران کے سائے

03/07/2026
دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

این سی اپوزیشن کو احتجاج میں شامل کرنے پر کیوں مجبور؟

03/07/2026
قصابوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

وادی میں مٹن ڈیلرز کی ہڑتال، شادیوں کے سیزن میں گوشت کی قلت کا خدشہ

26/06/2026
جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

26/06/2026
انجینئر رشید فتح کے قریب، محمد عمر ہار تسلیم کر لی

سات برس کی اسیری، عوامی مینڈیٹ اور ایک مشکل فیصلہ:کیا انجینئر رشید بارہمولہ کی پارلیمانی نشست چھوڑ دیں گے؟

26/06/2026
Next Post
دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

دلائی لامہ دو ماہہ قیام کے لیے لیہ پہنچ گئے، شاندار استقبال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »