ڈیسک رپورٹ/شاہد لطیف
جنوبی ایشیا میں گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت اور پاکستان کے تعلقات اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ مئی 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی، ’’آپریشن سندور‘‘، سرحد پار حملوں، ڈرون کارروائیوں اور چار روزہ محدود جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات مکمل طور پر معطل ہیں۔ تاہم انہی حالات میں سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والی ایک غیر رسمی ملاقات نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مختلف بھارتی، پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جون 2026 کے آخری ہفتے میںانٹرنیشنل انسٹیچیوٹ آف اسٹرییٹجیک اسٹڈیڑ(IISS)کی علاقائی سلامتی کانفرنس کے موقع پر بھارتی اور پاکستانی وفود کے درمیانTrack-II اور بعض پاکستانی ذرائع کے مطابق Track-1.5 نوعیت کے مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک کے سابق فوجی افسران، ریٹائرڈ سفارت کاروں، سیاست دانوں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔
مذاکرات کہاں اور کیوں ہوئے؟
یہ ملاقاتیں کولمبو میں IISS کی علاقائی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر تقریباً دو روز تک جاری رہیں۔ اس کانفرنس میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے نمائندے شریک تھے۔
’’این ڈی ٹی وی‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارت کی نمائندگی سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے، انڈیا فاؤنڈیشن کے صدر رام مادھو اور سابق سفارت کارروچی گھناشیام نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک)سجاد حیدر خان، امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیرشیری رحمان اور ریٹائرڈ میجر جنرل اسفندیار علی خان پٹوڈی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے الگ الگ اجلاسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، آبی تنازعات، بحران کے دوران رابطوں کو مؤثر بنانے اور مستقبل میں فوجی تصادم کے امکانات کم کرنے جیسے موضوعات پر کھل کر تبادلۂ خیال کیا۔ تاہم ان مذاکرات سے کوئی باضابطہ معاہدہ یا اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
کن امور پر گفتگو ہوئی؟
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کسی قسم کی فوجی کشیدگی پیدا ہو تو رابطوں کا ایسا نظام موجود رہے جو غلط فہمیوں اور غیر ضروری تصادم کو روک سکے۔
وفود کے درمیان جن اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی ان میں: سرحد پار دہشت گردی؛سندھ طاس اور پانی کی تقسیم سے متعلق اختلافات؛بحران کے دوران ہاٹ لائن اور رابطہ نظام کو مؤثر بنانا؛ مستقبل میں فوجی کشیدگی روکنے کے امکانات؛ اور غیر رسمی مذاکرات کے نتائج کو مستقبل میں سرکاری سطح (Track-I) تک پہنچانے کے امکانات شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی اور پانی کے معاملات پر کھل کر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے اور اختلافات کے باوجود رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا۔
بھارت کا سرکاری مؤقف
کولمبو مذاکرات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی حکومت نے فوری طور پر ان ملاقاتوں سے لاتعلقی اختیار کر لی۔خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’دنیا بھر میں اس نوعیت کے درجنوں پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’یہ نجی اداروں کی جانب سے منعقد کیے گئے نجی پروگرام ہیں۔ حکومت ہند کا ان سے کوئی تعلق نہیں، نہ کوئی سرکاری شرکت ہے اور نہ ہی سرکاری حمایت۔‘‘
وکرم مصری نے واضح کیا کہ ایسے اجلاسوں میں شریک ریٹائرڈ فوجی افسران، سفارت کار یا سول سوسائٹی کے افراد اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی آراء کو حکومت ہند کا مؤقف تصور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا:’’ہم ایسے پروگراموں کا کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ ہماری نظر میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت ہند کی اس پالیسی کو دہرایا کہ’’دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ اور مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان کے ساتھ کسی باضابطہ مذاکرات کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ادھر پاکستانی حکومت نے کولمبو میں ہونے والے ان رابطوں پر باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سفارتی حلقوں کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مکمل تعطل کی کیفیت میں رابطے کا ایک غیر رسمی ذریعہ برقرار رکھنا تھا۔
Track-II یا Track-1.5؟
کولمبو مذاکرات کے حوالے سے بھارتی اور پاکستانی ذرائع کی تشریح میں بھی نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔
بھارتی ذرائع اور وزارت خارجہ کے مطابق یہ صرفTrack-II مذاکرات تھے کیونکہ بھارتی حکومت کا کوئی حاضر سروس نمائندہ شریک نہیں تھا۔
اس کے برعکس بعض پاکستانی ذرائع نے انہیں Track-1.5 قرار دیا کیونکہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک حاضر سروس ڈائریکر جنرل اجلاس میں شریک تھے۔
بھارتی حکام نے اس تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستانی سرکاری نمائندے کی موجودگی سے مذاکرات Track-1.5 نہیں بن جاتے کیونکہ بھارت کی جانب سے کوئی سرکاری نمائندہ شریک نہیں تھا۔
مئی 2025 کی کشیدگی کے بعد مسلسل رابطے
میڈیا خبروں کے مطابق کولمبو اجلاس کوئی پہلا رابطہ نہیں تھا۔
نشریاتی ادارےWION کے مطابق مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد مختلف مغربی ایشیائی دارالحکومتوں میں متعدد غیر رسمی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں دوحہ ، مانامہ بحرین اور بینکاک سمیت مختلف مقامات پر سابق فوجی افسران، سفارت کار، ماہرین تعلیم اور میڈیا شخصیات شریک ہوتی رہی ہیں۔
ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد باضابطہ مذاکرات کی بحالی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ برقرار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کے دوران مکمل سفارتی تعطل پیدا نہ ہو۔
جنرل نرواڑے اور ٹریک ٹو سفارت کاری
بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے ماضی میں بھی ٹریک ٹو سفارت کاری کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ اگرچہ حکومتوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پھر بھی عوامی روابط، تعلیمی تبادلے اور غیر رسمی سفارتی رابطے مستقبل میں اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح آر ایس ایس کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسابالے نے بھی حالیہ ہفتوں میں کہا تھا کہ بھارت کو اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنے چاہیے۔
کیا کوئی پیش رفت ہوئی؟
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس بات پر تما م متعلقین متفق ہیں کہ کولمبو مذاکرات سے کوئی بڑا سفارتی بریک تھرو سامنے نہیں آیا، نہ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اور نہ ہی کسی باضابطہ معاہدے پر اتفاق ہوا۔
البتہ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے غیر رسمی رابطے مستقبل میں اعتماد سازی، بحران کے دوران رابطوں کی بحالی اور ممکنہ سرکاری مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کولمبو میں ہونے والے یہ مذاکرات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان سرکاری سطح پر مذاکرات کا سلسلہ بدستور منقطع ہے، تاہم دونوں ممالک کے بااثر سابق سفارت کار، فوجی افسران اور پالیسی ماہرین رابطے کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دینا چاہتے۔
بھارتی حکومت ان ملاقاتوں کو محض نجی سرگرمی قرار دے رہی ہے جبکہ پاکستانی ذرائع انہیں مستقبل کی سفارت کاری کا ابتدائی قدم تصور کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کسی نئے مذاکراتی عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم کولمبو میں ہونے والی یہ خاموش سفارت کاری اس امر کا اشارہ ضرور دیتی ہے کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود رابطے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔





