ڈیسک رپورٹ/علی عمران
تبتی بدھ مت کے روحانی پیشوا، 14ویں دلائی لامہ ہفتہ27 جون کی صبح نئی دہلی سے فوج کے خصوصی طیارے کے ذریعے لیہ پہنچ گئے، جہاں لیہ ٹیکنیکل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔
دلائی لامہ کی آمد کے موقع پر لداخ کی مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد ایئرپورٹ پر موجود تھی۔ ایئرپورٹ سے چوگلمسر کے جیویتسال تک سڑک کے دونوں جانب ہزاروں افراد قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنے روحانی پیشوا کا خیر مقدم کرتے رہے۔ لوگوں نے روایتی سفید ’’خاتک‘‘ اسکارف اور پھول پیش کیے جبکہ دلائی لامہ کے قافلے کے گزرنے پر عقیدت مندوں نے ان سے دعائیں اور برکتیں حاصل کیں۔
استقبال کرنے والوں میں لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے صدر چرنگ درجے، لداخ گونپا ایسوسی ایشن کے نائب صدر گیشے لوبزانگ تاشی، مختلف خانقاہوں سے تعلق رکھنے والے رنپوچے، راہب، راہبات، مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندے، سماجی رہنما اور متعدد معزز شخصیات شامل تھیں۔
اس موقع پر لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے صدر چرنگ درجے نے میڈیا کو بتایا کہ دلائی لامہ تقریباً دو ماہ تک لداخ میں قیام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس قیام کا بنیادی مقصد حال ہی میں گھٹنے کی سرجری کے بعد آرام اور صحت یابی ہے، تاکہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہو سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دلائی لامہ کے عوامی خطابات اور مذہبی تعلیمات کے پروگرام کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ جیسے ہی دلائی لامہ کے دفتر کی جانب سے تاریخوں کی منظوری دی جائے گی، عوام کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
چرنگ درجے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 6 جولائی کو دلائی لامہ کی 91ویں سالگرہ کی تقریبات لیہ کے جیویتسال تدریسی میدان میں نہایت شاندار انداز میں منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ چونکہ اس سال دلائی لامہ خود لداخ میں موجود ہوں گے، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ سالگرہ کی تقریبات غیر معمولی اہمیت اختیار کریں گی اور ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں عقیدت مند اس موقع پر شرکت کریں گے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال یہ حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا دلائی لامہ اپنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے سالگرہ کی مرکزی تقریب میں ذاتی طور پر شریک ہوں گے یا نہیں۔ اس بارے میں فیصلہ ان کی صحت اور طبی مشوروں کی روشنی میں مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
یاد رہےدلائی لامہ کی آمد کو لداخ کے بدھ مت پیروکاروں کے لیے ایک نہایت اہم مذہبی اور روحانی موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے دورۂ لداخ کے دوران مذہبی سرگرمیوں، دعائیہ اجتماعات اور مختلف روحانی پروگراموں کے انعقاد کی بھی توقع کی جا رہی ہے، تاہم ان تمام پروگراموں کا باضابطہ شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 14ویں دلائی لامہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں امن، بین المذاہب ہم آہنگی، عدم تشدد اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ ہر سال ان کے لداخ کے دورے کو مقامی آبادی خصوصی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
دوسری جانب چین نے دلائی لامہ کے لداخ کے دوروں پر ہمیشہ سخت اعتراض کیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ دلائی لامہ محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک’’علیحدگی پسند‘‘ شخصیت ہیں، اور ان کے لداخ سمیت سرحدی علاقوں کے دوروں کو چین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تناظر میں حساس معاملہ قرار دیتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ متعدد مواقع پر بھارت اور دیگر ممالک سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ وہ دلائی لامہ کو، بیجنگ کے بقول، ’’چین مخالف علیحدگی پسند سرگرمیوں‘‘ کے لیے پلیٹ فارم فراہم نہ کریں۔ چین یہ مؤقف بھی دہراتا ہے کہ دلائی لامہ کے جانشین (تناسخ) کے تعین کا اختیار صرف چینی حکومت کے پاس ہے اور بیرونی ممالک کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
خیال رہےماضی میں دلائی لامہ سے غیر ملکی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر چین سخت سفارتی احتجاج، دوطرفہ روابط میں سردمہری اور بعض مواقع پر سفارتی سرگرمیوں کی معطلی جیسے اقدامات بھی کر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب دلائی لامہ کے دورے لداخ، لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا اکسائی چن کے قریب علاقوں میں ہوتے ہیں تو بیجنگ انہیں علاقائی تنازع کے تناظر میں بھی دیکھتا ہے اور انہیں بھارت کے علاقائی دعوؤں کی تقویت سے جوڑتا ہے، جبکہ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ دلائی لامہ کی مذہبی سرگرمیوں کو سیاسی یا سفارتی تنازع سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔





