رضوان سلطان
جموں کشمیر ملک کی ایک ایسی پہلی ریاست ہوگی جہاں سڑکوں کی میکڈمائزیشن کے لیے محدود سیزن ہونے کے باوجود بھی رواں سال کسی بھی جگہ سڑکوں پر تارکول نہیں بچھایا گیا اور اسکی وجہ سرکار اور ٹھیکداروں کے درمیان کئی معاملات کو لے کر رسہ کشی ہے۔ جموں کشمیر میں اس وقت سڑکوں کی تعمیر کا کام رکا پڑا ہے۔ جس کے باعث وادی بھر میں خستہ حال سڑکیں عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ٹھیکیداروں کا مؤقف ہے کہ خام مال، خصوصاً تارکول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومتی نرخوں میں نظرثانی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کام شروع نہیں کر پا رہے۔ دراصل ٹھیکیداروں اور حکومت کے درمیان جاری تنازع کے باعث ترقیاتی اور تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ کے بعد خام مال کی قیمتوں میں اضافے، کان کنی کے مواد کی عدم دستیابی، واجبات کی عدم ادائیگی اور مالیاتی و خزانہ نظام میں تبدیلیوں کے باعث کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ہڑتال کے نتیجے میں سڑکوں کی میکڈمائزیشن، پلوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا کام بھی رکا ہوا ہے، حالانکہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 33,127 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ایک طرف سے رواں سال فروری میں شروع ہوئی ایران امریکہ جنگ اور دوسری طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بٹومن یا تارکول شدید قلت پیدا ہوئی جس کے باعث تارکول درآمد کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے اسکی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔
ٹھیکیداروں کے مطابق وادی میں محدود تعمیراتی سیزن کے پیش نظر اگر ہڑتال طویل ہوئی تو اس سال سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کا منصوبہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ٹھیکداروں کے مطابق تقریباً ایک ہزار کلومیٹر سڑکوں کی میکڈمائزیشن کے لیے 27 ہزار میٹرک ٹن بٹومین درکار ہے۔جموں و کشمیر سنٹرل کنٹریکٹرز کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین غلام جیلانی پرزہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے بعد بٹومین کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے بٹومین تقریباً 53 روپے فی کلو دستیاب تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 104 روپے فی کلو ہو چکا ہے، جبکہ سرکاری نرخ اب بھی پرانی قیمتوں کی بنیاد پر مقرر ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے مئی میں تقریباً 223 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، جس میں میکڈمائزیشن کے لیےقریب 155کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث ٹھیکیداروں نے مقررہ نرخوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ٹینڈرز میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
ادھر اس معاملہ کو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے نوٹس میں لایا گیا ہے، جنہوں نے ایک ہفتے کے اندر مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی ہے۔وہیں اگر پیش رفت نہ ہوئی تو مبینہ ذخیرہ اندوزی کی جانچ کے لیے ہاٹ مکس پلانٹس اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے جا سکتے ہیں۔ تاہم دوسری طرف سے ہاٹ مکس پلانٹ ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد خان نے امت نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں اپریل سے اکتوبر تک میکڈمائزیشن کا سیزن رہتا ہے۔ انہوں کہا کہ اپریل میں ٹھیکداروں نے ٹینڈرنگ میں حصہ اس لیے نہیں لیا کیوں کہ اسکی قیمتیں پرانی ہی رکھی گئی ہیں جبکہ مارکیٹ میں انہیں میٹیریل اب مہنگا مل رہا ہے۔
وہیں انہوں نے کہا کہ اسکے باوجود ٹھیکداروں نے رواں سال محرم میں عزاداری کے جلوسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زڈی بل اور بڈگام کی کچھ سڑکوں کو میکڈمائزکیا اور اسکے ساتھ ساتھ امرناتھ یاتریوں کے لیے پہلگام اور سونہ مرگ میں سڑکوں پر میکڈم بچھایا۔ بشیر خان نے مزید کہا کہ اپریل سے جموں کشمیر میں کہیں بھی میکڈمائزیشن کا کام نہیں ہوا لیکن اسکے باوجود بھی سرکار نے کبھی انکو بات کرنے کے لیے نہیں بلایا اور نہ ہی انکا مسئلہ حل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ٹھیکداروں کے قریب 80 کروڑ روپے واجب الادا ہیں جسکے باعث انہیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔







