امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا جنتر منتر پر احتجاج 24ویں روز بھی جاری رہا۔ تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا کہ اب پارلیمنٹ کی جانب دوبارہ مارچ نہیں کیا جائے گا تاکہ مزید طلبہ زخمی نہ ہوں، تاہم دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اروند کیجریوال اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے آر ایم ایل اسپتال پہنچ کر زخمی طلبہ کی عیادت کی اور پولیس کارروائی کی مذمت کی۔ کانگریس نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا۔
ادھر مرکزی وزیر جے پی نڈا نے بھی آر ایم ایل اسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی صحت سے متعلق ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے ارکان سے خطاب میں کہا کہ نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے معاملے میں سخت کارروائی کی گئی ہے اور مستقبل میں پیپر لیک روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اس لیے احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران تشدد کے سلسلے میں متعدد ایف آئی آر درج کرنے اور گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ سونم وانگچک بھی اسپتال سے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں اور طلبہ کے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔






