(اننت ناگ) صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولی منگل کے روز قاضی گنڈ کے ووسو پہنچے اور وہاں بر سر احتجاج پنڈتوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے وہاں موجود کشمیری پنڈتوں کو یقین دلایا کہ نوکریوں سے متعلق ان کے تمام معاملات کو ایک ہفتے کے اندر اندر حل کیا جائے گا جبکہ دوسرے مطالبوں کو بھی اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اس موقع پر کشمیر پنڈتوں نے موصوف صوبائی کمشنر کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔ احتجاج کرنے والے بعض احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمیں جموں واپس بھیجو‘ کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ صوبائی کمشنر نے احتجاجیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی نوکریوں ، پوسٹنگ کی جگہ، ترقیوں وغیرہ سے متعلق تمام معاملات کو ایک ہفتے کے اندر اندر حل کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا: ’ملی ٹنٹ اب بڑی سیکورٹی تنصیبات پر حملے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں جسیا کہ وہ پہلے کیا کرتے تھے اسی لئے اب وہ سافٹ ٹارگیٹس پر حملہ کرتے ہیں اور یہاں تک کہ چھٹیوں پر گھر آنے والے نہتے پولیس اہلکاروں کوبھی نشانہ بنا رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’وہ (ملی ٹنٹ) اقلیتی فرقے میں ڈر کا موحول پیدا کرنے کے لئے ان ہلاکتوں کو انجام دے رہے ہیں‘۔ صوبائی کمشنر نے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں سیکورٹی ماحول ایسا نہیں ہے جیسا دس برس قبل تھا بلکہ اس میں حد درجہ بہتری آئی ہے۔ یاد رہے کہ چاڈورہ بڈگام میں 13 مئی کو ایک کشمیری پنڈت ملازم کی مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد وادی کی پنڈت کالونیوں میں مقیم لوگ مسلسل بر سر احتجاج ہیں۔











