(سرینگر) وادی کشمیر کی معیشت میں سیاحتی شعبے کے ساتھ ساتھ میوہ صنعت ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے۔ میوہ صنعت سے وابستہ افراد آج کل عجیب پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سرینگرجموں شاہراہ پر سیب کی ٹرکوں کو روکنے سے سیب کی کوالٹی متاثر ہونے کے ساتھ ہی میوہ صنعت سے جڑے افراد کو بھاری مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ سرینگرجموں شاہراہ کی خستہ حالی اور ٹریفک جام کی وجہ سے سیب کشمیر سے باہر مختلف فروٹ منڈیوں تک وقت پر نہیں پہنچ پا رہا ہے جبکہ راستے میں ہی سیب کی کوالٹی بھی خراب ہورہی ہے جس کے سبب میوہ کاشتکاروں اور تاجروں کے علاوہ ٹرانسپورٹروں کو بھی نُقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سرینگرجموں شاہراہ پر بانہال سے لیکر رام بن تک شاہراہ کے فورلین پر جہاں تعمیراتی کام جاری ہے، وہیں موجودہ شاہراہ کی حالت کافی خستہ ہو گئی ہے۔ اکثر موسم سرما میں شاہراہ بارشوں اور برف باری سے بند رہتا تھا۔ لیکن اب توسال بھر شاہراہ آئے دن ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند رہتا ہے جس سے نہ صرف وادی میں اشیائے خوردو نوش کی کمی ہوتی ہے بلکہ گُذشتہ کُچھ برسوں سے اب وادی سے کاشت ہونے والے سیب اور دیگر میوہ جات کو ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے میں بھی تاخیر ہورہی ہے جس کا اثر یہاں کی فروٹ منڈیوں میں سیب کے کاروبار پر پڑ رہا ہے۔










