(کابل) امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے ذخائر کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قحط زدہ ملک کو نقدی کی کمی، غذائی قلت اور نقل مکانی کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے افغانستان کے 10 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں کو بحال کردیا جائے تو کسی اور مالی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں افغان شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی امداد کی فوری ضرورت ہے اس لیے جی 20 اجلاس میں منظور کی گئی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد فوری تقسیم ہونی چاہیے۔ دوسری جانب وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت نے بشمول خواتین کی تعلیم کے انسانی حقوق کے احترام کی یقین دہانی کراتے ہوئے مزید مالی امداد مانگی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کی مرکزی بینک ’’یو ایس فیڈرل ریزرو‘‘ اور یورپ کے دیگر مرکزی بینکوں میں اربوں ڈالر کے اثاثے رکھے ہیں لیکن اگست کے وسط میں طالبان کی جانب سے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ رقم منجمد ہے۔ ادھر طالبان کے بانی ملا عمر کے صاحبزادے اور امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب پہلی بار ایک تقریب میں منظر عام پر آگئے اس سے قبل ان کی تصویر بھی دستیاب نہیں تھی۔ ترجمان طالبان ڈاکٹر محمد نعیم کے مطابق کابل میں شہید سردار داؤد اسپتال کی افتتاحی تقریب اس وقت پُرجوش نعروں سے گونج اُٹھی جب وہاں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب پہنچے۔
د افغانستان اسلامي امارت ملي دفاع وزارت وزیر مولوي محمد یعقوب ابن ملا(محمدعمر) مجاهد حفظه الله. 👇🏻 pic.twitter.com/GBjp3sDBKD
— Dr.M.Naeem (@IeaOffice) October 27, 2021











