• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
بدھ, فروری ۴, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
فیس بک :نئےالزامات کی زد میں

فیس بک :نئےالزامات کی زد میں

عبدالحفیظ ظفر

by امت ڈیسک
30/10/2021
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

فیس بک سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ ہے۔ 2004 میں اس کا آغاز ہوا اور پھر سوشل میڈیا کے فوائد کی وجہ سے بہت تھوڑے عرصے میں اس کی مقبولیت بڑھی اور اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور یہ اضافہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دنیامیں تجارت کرنے والے بیشتر لوگ بہتر برانڈنگ کے لیے فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کے ذریعے آپ کی ملاقات نئے لوگوں سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف جگہوں کے بارے میں آپ کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان جگہوں کی ثقافت اور روایات کے متعلق بھی آپ کو آگاہی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیس بک ان دنوں دنیا کے ساتھ آپ کا رابطہ برقرار رکھنے کے لیے ایک شاندار آپشن ہے ۔

جس طرح ہر سکے کے دو رُخ ہوتے ہیں اس طرح فیس بک کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ آج فیس بک کا استعمال مختلف زبانوں میں بھی ہوتا ہے۔ زبان کے مترجم کی وجہ سے آپ ہر شخص سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ فیس بک کا ایک نقصان یہ ہے کہ آپ چیزوں کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ جب آپ کی نجی زندگی کے بارے میں آپ کے دوستوں اور پھر ان کے دوستوں کو علم ہوجاتا ہے تو پھر آپ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ فیس بک کے ذریعے جعلی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ نسلی منافرت کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔ مختلف گروپس، شخصیات اور قومیتوں کے بارے میں نفرت آمیز باتیں کی جاتی ہیں جو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔

سیاسی اعتبار سے خاص طور انتخابات کے دوران دنیا کے ممالک میں اسے پراپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔
2020 کے امریکی انتخابات سے قبل امریکی انٹیلیجنس کی اعلیٰ قیادت نے انتباہ کیا تھا کہ بیرونی طاقتیں امریکی ووٹرز کو کسی ایک امیدوار کو ووٹ دینے کی جانب راغب کریں گی ۔لہٰذاان انتخابات کو متنازع بننے سے روکنے کے لیے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی جانب سے متعدد اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا گیالیکن ان پہ عمل درآ مد کم ہی ممکن ہو سکا۔

میڈیا اور سول سوسائٹی نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں فیس بک کو پہلے ہی لتاڑ چکے تھے۔ فیس بک کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ تاہم فیس بک کے بانی مارک زکر برگ اس قسم کے مطالبات کو یہ کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں کہ سیاستدانوں کے بیانات کی تصدیق کرنا فیس بک کا کام نہیں اور ایسے اقدامات آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہیں۔ لیکن میڈیا ،سول سوسائٹی اور امریکی پارلیمان کی جانب سے بڑھتے دباؤ کے بعد فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ 2020 کے انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی جانب سے سرکاری نتائج کے اعلان سے پہلے فیس بک پر جیت کے دعوے کرنے کی صورت میں اس پوسٹ کے ساتھ یہ تنبیہ جاری کرے گا کہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور سرکاری نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔اسی طرح کسی بھی صدارتی امیدوار کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بیانات پر بھی فیس بک یہ تنبیہ جاری کرے گا کہ امریکہ کے قوانین اور ادارے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بناتے ہیں۔فیس بک کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وہ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سے امریکہ میں تمام سیاسی اشتہارات پر غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کر رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے بعد فیس بک پر ’’سٹاپ دی سٹیل ‘‘یعنی ’’الیکشن چوری ہونے سے روکو ‘‘کے نام سے ایسے متعدد گروپس بنائے گئے جن میں لوگوں سے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک دن کے اندر ہی تین لاکھ سے زائد افراد نے اس گروپ میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد فیس بک نے ان گروپس پر پابندی عائد کر دی۔ فیس بک کی جانب سے اپنے پالیسی بیانات میں متعدد بار زور دیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے یہ اقدامات امریکہ سمیت دنیا بھر میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں لیکن صدر ٹرمپ سمیت متعدد مبصرین نے ان اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدامات آزادی رائے اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن کے مترادف ہے اور ان کا مقصد قدامت پسند نظریات کی حوصلہ شکنی ہے۔

دوسری جانب صارفین کے ڈیٹا کی چوری کا الزام بھی مضبوط ترہوتا گیا۔ اس بارے میں فیس بک کے سر براہ مارک زکر برگ نے اس پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ ان کہنا ہے تھا فیس بک سے عوام کے اعتماد کو جو ٹھیس پہنچی ہے، اسے بحال کریں گے۔زکربرگ نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس سے بچنے کے لیے کئی سال پہلے اقدامات کیے تھے مگر اب فیس بک کو ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اگر ہم عوام کے ڈیٹا کی حفاظت نہیں کر سکتے تویہ کام چھوڑ دینا چاہیے۔ ان تمام ایپلی کیشنز کی تحقیقات ہوگی جو ڈیٹا کے لیے 2014 سے قبل دستیاب تھیں۔ کیمبرج انالیٹیکا اسکینڈل کے بعد مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، ڈیٹا کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا کے معاملے میں ہم نے ٹھوکر کھائی۔ دوسری جانب برطانوی ٹی وی کے مطابق فیس بک پر لوگوں کے اعتماد میں 60 فی صد کمی آئی ہے جبکہ 80 فی صد کو یہ علم نہیں کہ ڈیٹا کا کیا استعمال ہوتا ہے۔ برطانوی اور یورپی ادارے فیس بک اور کیمبرج اینالیٹیکا کے خلاف تحقیقات کر تے رہے۔ برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق کیمبرج اینالیٹیکا نے مبینہ طور پر ایک سافٹ ویئر کے ذریعے فیس بک استعمال کرنے والے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری کیا اور اس ڈیٹا کے ذریعے مختلف سیاسی جماعتوں سے پیسے لے کر انتخابی نتائج کو متاثر کیا تھا۔ حال ہی میں برطانیہ کے چینل فور نے خفیہ تفتیشی ویڈیو جاری کی ہے جس میں کیمبرج اینالیٹیکا کے سربراہ کو اعتراف کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ اْن کی فرم اپنے کلائنٹس کے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے کس طرح غیر قانونی حربے استعمال کرتی ہے۔

چند روز قبل اسی ضمن میں اور بات سامنے آ ئی۔ فیس بک کی سابق عہدیدار فرانسس ہیوگن نے امریکی سینٹ کو بتایا کہ فیس بک کی مصنوعات بچوں اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہیں۔ فرانس ہیوگن نے امریکی سینٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ فیس بک کی انتظامیہ کو معلوم ہے کہ پلیٹ فارم کو کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے لیکن وہ منافع کیلئے ایسا کرنے سے گریزاں ہے۔ تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ فرانسس ہیوگن جن موضوعات پر بات کررہی ہیں انہیں ان چیزوں کا پتہ ہی نہیں ہے۔

فیس بک دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے ماہانہ سرگرم صارفین کی تعداد 2.7 ارب ہے۔ فیس بک کو اب بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور غیر درست معلومات کے پھیلائو کو روکنے کیلئے ناکافی انتظامات کیے ہیں۔ امریکی سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے اراکین اس بات پر متفق نظر آئے کہ کمپنی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا کسی بات پر متفق ہونا کسی حد تک ناقابل یقین ہوتا ہے۔ فرانسس ہیوگن نے پہلے خفیہ رہ کر امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ فیس بک کی اندرونی معلومات شیئر کیں۔ اب وہ منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے مطابق فیس بک کو یہ علم ہوچکا ہے کہ لوگوں کے جذبات کو اُبھار کر ان کو اپنی منشا کے مطابق زیادہ دیر تک روک سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کا منافع بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ منافرت پھیلانے والے مواد کی تشہیر سے معاشروں کو نقصان پہنچ رہا ہے فیس بک نے منافع کمانے کے لیے اسے جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک میں کام کرنے کے دوران انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ فیس بک نے ہمیشہ اپنے منافع کو ترجیح دی۔ دوسری طرف فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ تمام الزامات گمراہ کن ہیں اور اس نے چالیس ہزار ملازم ایسے رکھے ہوئے ہیں جو نفرت آمیز مواد کی تشہیر کو روکتے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا ایکسپرٹس فیس بک انتظامیہ پر مسلسل الزام عائد کر رہے ہیں کہ فیس بک کا جھکائو سیاست کی طرف بہت ہوگیا ہے جس سے جمہوریت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکہ میں 2020 کے انتخابات سے پہلے یہ بات نوٹ کی گئی کہ فیس بک کو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کیلئے کیسے استعمال کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو سیاسی طور پر قدامت پرست آوازوں کو موثر بنانے کیلئے بہتر بنایا گیا ہے۔ سیاسی طور پر قدامت پرست آوازیں کیا ہیں؟ ان میں فسطائیت، علیحدگی پسندی اور اجنبیوں یا غیر ملکیوں سے نفرت ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی مواقع پر ایسے وار کیے گئے ہیں جس سے لوگوں کو تقسیم کرنے والی بیان بازی ہوئی ہے۔ ایسی بیان بازیوں میں اضافہ ہورہا ہے جس سے معاشرے میں لوگ سیاسی طور پر تقسیم ہورہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے جمہوریت کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے؟ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق 2020 میں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے متنبہ کیا تھا کہ روس 2020 کے صدارتی انتخابات کی مہم میں مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ منتخب کرانا ہے۔ تحقیق کرنے والی ایک ٹیم نے یہ بات معلوم کرلی کہ فیس بک انتظامیہ جعلی اکائونٹس کی آ ڑ میں جان بوجھ کر لوگوں کو منقسم کرنے کے لیے بیج بو رہی ہے ،نفرت، تعصب، خوف اور مخاصمت کی فضا پیدا کررہی ہے۔ زیادہ تر جعلی اکائونٹس کا تعلق روس کی انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (IRA) سے تھا۔ اس ٹیم کے مطابق جعلی اکائونٹس کا بڑا مقصد لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا اور اس کی زیادہ توجہ ان ریاستوں پر تھی جہاں لوگوں کی رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

فیس بک انتظامیہ نے متعدد دفعہ یہ وعدہ کیا کہ سیاسی رحجانات ختم کردیئے گئے جائیں گے اور اس مقصد کیلئے کبھی کبھی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ لیکن کمپنی کو اس بات پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ اس نے غلط اطلاعات پھیلانے اور انتخابات میں مداخلت روکنے کیلئے بہت کم کام کیا ہے۔ ’’سیاسی اداکاروں‘‘ کا اس پلیٹ فارم کو انتخابات کیلئے استعمال کرنا جمہوریت کیلئے ہرگز سودمند نہیں۔ فیس بک کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’’ہم نے مختلف علاقوں کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ تجربہ کار ٹیمیں بنائی ہیں اور نئی مصنوعات، پالیسیاں اور شراکت داریاں تخلیق کی ہیں۔ یہ سب اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کیا ہے کہ ہم درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں‘‘۔

فیس بک پرایک اور حوالے سے تنقید کی گئی ہے کہ یہ نفرت آمیز تقاریر کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ 2016 کے امریکی انتخابات کے بعد یہ کہا گیا کہ فیس بک جو کچھ کررہا ہے اس سے قدامت پرستوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اِن انتخابات میں فیس بک سٹاف نے یہ تجویز پیش کی کہ فیس بک کو اس پر کام کرنا چاہیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ 2017 کے قریب فیس بک سٹاف نے یہ تجویز دی کہ ایک نقشے کے مطابق دلیل مشترکہ (Common Ground) سے کام لیا جائے گا اور فیس بک کے ہر صارف کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرے۔ اس سے مخاصمت اور سیاسی تقسیم کم ہوگی۔ بہرحال اس حقیقت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں کہ فیس بک کا ٹریک ریکارڈ ان لوگوں کے لئے خوش کن نہیں جو ایک صحت مند جمہوری ریاست میں زندگی گزارنے کے آرزومند ہیں۔ ایک ایسی سیاسی تقسیم (Political Polarization) جس کی بنیاد غلط بیانیوں اور افواہوں پر رکھی گئی اورجمہوریت کو صرف اور صرف نقصان ہی پہنچا سکتی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوجائیں تو کسی اور امداد کی ضرورت نہیں رہے گی، طالبان

Next Post

دفعہ 370ختم کرکے بھاجپا نے وہ کرکے دکھایا جو کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

30/01/2026
جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
Next Post
دفعہ 370ختم کرکے بھاجپا نے وہ کرکے دکھایا جو کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی

دفعہ 370ختم کرکے بھاجپا نے وہ کرکے دکھایا جو کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی

راجوری میں ایل او سی پر پراسرار دھماکہ، ایک افسر سمیت دو فوجی ازجاں

راجوری میں ایل او سی پر پراسرار دھماکہ، ایک افسر سمیت دو فوجی ازجاں

این آئی اےکی جانب سےکشمیر کے مختلف مقامات پر چھاپے 

این آئی اے کی کشمیر میں کاروائی، مزید دو افراد کو گرفتار کیا گیا

عرب ممالک اسرائیل سے معاہدے ختم کریں، اسماعیل ہانیہ

عرب ممالک اسرائیل سے معاہدے ختم کریں، اسماعیل ہانیہ

امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوند زادہ پہلی بار منظرعام پر

امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوند زادہ پہلی بار منظرعام پر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »