(سرینگر) پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو اننت ناگ جانے سے روکنے کے لئے پھر خانہ نظر بند رکھا گیا۔ پارٹی حوالوں سے میڈیا رپورٹس کے مطابق محبوبہ مفتی کو پیر کے روز شوپیاں میں 24 اکتوبر کو ‘سی آر پی ایف اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئے گولیوں کے تبادلے’ میں جاں بحق ہونے والے شاہد احمد کے گھر تعزیت پرسی کے لئے جانا تھا۔ ایک پارٹی لیڈر نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے پیر کی صبح پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ واقع گپکار کے مین گیٹ کو مقفل کر دیا اور باہر ایک موبائل بنکر لگا دیا تاکہ وہ اننت ناگ نہ جا سکے۔ انہوں نے کہا: ’محبوبہ جی کو اننت ناگ کے مقتول نوجوان کے گھر تعزیت کے لئے جانے سے قبل ہی خانہ نظر بند کر دیا گیا‘۔ دریں اثنا محبوبہ مفتی نے بی جے پی لیڈر وکرم سنگھ رندھا وا کے کشمیریوں کی کھال ادھیڑنے کے متعلق ایک بیان کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کی کھال ادھیڑنے کا مطالبہ کرنے والے بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن جموں وکشمیر کے طلبا کے خلاف جیتنے والی ٹیم کے لئے تالیاں بجانے پر بغاوت کا مقدمہ عائد کر دیا جاتا ہے، بھارت یقیناً جمہوریتوں کی ماں ہے‘۔
No action taken against an ex BJP MLA who calls for genocide of Kashmiris & to skin them alive. But J&K students are charged with sedition for merely cheering the winning team. India is surely the mother of all democracies. @JmuKmrPolice @OfficeOfLGJandK https://t.co/71BoNvixni
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) November 1, 2021
خیال رہے بی جے پی لیڈر وکرم سنگھ رندھاوا کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں انہیں ‘’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان (کشمیری طلبا) کی ڈگریاں اور ان کی شہریت کو منسوخ کیا جانا چاہئے اور ان کی کھال ادھیڑ دی جانی چاہئے’‘ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔










