(سرینگر) وادی میں مٹی کے تیل کی نایابی کے سبب لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہا ہے جبکہ سردیوں میں مٹی کے تیل کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اگرچہ موسم سرما سے قبل ہی مکمل تیاری کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں تاہم زمینی سطح پر حالات اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ وادی میں مٹی کا تیل ایک خواب بن کے رہ گیا ہے مٹی کے تیل کا استعمال عام اور غریب طبقہ سے وابستہ لوگ کرتے ہیں تاہم ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں انتظامیہ ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ وادی کشمیر میں موسم سرما شروع ہونے سے قبل ہی اگرچہ سرکار اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ وادی میں مٹی کے تیل، رسوئی گیس اور دیگر اشیاءضروریہ کا وافر سٹاک دستیاب ہے لیکن زمینی سطح پر سرکاری دعوے میل نہیں کھاتے۔ اگرچہ فی راشن کارڈ ایک لیٹر مٹی کا تیل دیا جاتا ہے تاہم اس کو بھی چھ 8مہینے بعد فراہم کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے اس ضمن میں کہا ہے کہ سردیوں میں مٹی کے تیل کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاہم سردیوں میں بھی صارفین کےلئے مٹی کا تیل دستیاب نہیں رکھا جاتاجس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ سرکار کی طرف سے نہ ایندھن کے بطور بالن فراہم کیا جاتا ہے اور ناہی مٹی کا تیل تو لوگ کس طرح اپنے کام نپٹائیں گے۔ لوگوں نے کہا کہ پہلے مٹی کا تیل فی کنبہ 10لیٹر دئے جاتے تھے اور ہر ماہ اس کی سپلائی ہوتی تھی لیکن پھر اس میں کٹوٹی کرکے 7لیٹر کردیا گیا۔ اس کے بعد 5لیٹر فی کنبہ مٹی کا تیل فراہم کیا جاتا تھا لیکن سرکار کی جانب سے اس میںمزید کٹوتی کرتے ہوئے تین لیٹر فی کنبہ کردیا گیا اس کے فوراً بعد 1.5لیٹر کردیا گیا اور آخر پر اب صرف فی کنبہ 1لیٹر کردیا گیا ۔صارفین نے کہا ہے کہ مٹی کا تیل اس قدر قلیل مقدار میں فراہم کرنا بذات خود ایک مذاق ہے اور اس سے بڑا مذاق یہ ہے کہ مٹی کا تیل جو ایک لیٹر فی راشن کارڈ دیا جاتا ہے وہ بھی 6سے 8ماہ بعد ڈیپوﺅں پر نظر آتا ہے۔ لوگوں نے اسلسلے میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ کم سے کم سردیوں کے ان چند ماہ میں مٹی کے تیل کی متواتر فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔(ایجنسیاں)










