(سرینگر) شدید سردی کی لہر کے بیچ سرینگر کے سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا اور سخت گہما گہمی کے دوران لوگوں نے اشیاء خوردنی کے ساتھ ساتھ ملبوسات اور دیگر سازوسامان کی خریدوفروخت کی۔ اسی دوران ناجائیز منافع خوروں کی طرف سے چھوٹ کے نام پر لوٹ کا بازار گرم تھا اور لوگوں کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کی کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑی گئی۔ یخ بست ہوائیوں کے باجود بھی شہر سرینگر کے مشہور سنڈے مارکیٹ میں غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے آج بھی ملبوسات کے ساتھ ساتھ دےگر اشیائے ضروری کی خریداری کی۔ بھاری عوامی رش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے لالچوک، گھنٹہ گھر، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور پولو گرونڈ کے علاوہ دیگر علاقوں کے بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی کیونکہ سڑکوں پر جگہ جگہ پر چھاپڑی فروشوں نے چھاپڑی لگائی تھی جن پر ملبوسات کے ساتھ ساتھ کھلونے کی چیزیں سجائی گئی تھی۔ لالچوک میں لوگ صبح سے ہی خریداری کرنے میں مصروف رہے تاہم منافع خوری عروج پر تھی اور محکمہ امور صارفین کے چیکنگ سکارڈ وں کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ چنانچہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے بازاروں میں رش بڑھتا گیااورلوگ خریداری میں مصروف تھے۔ لوگ جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی ،اشیائے ضروری اور خوردنوشی کے دیگر چیزوں کی خریداری میں مصروف تھے۔ بھاری رش کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے جس کی وجہ سے لوگوں کو چلنے پھرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔










