(سرینگر) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سرینگر میں پیر کی صبح انسانی حقوق کارکن خُرم پرویز کے دفتر ( JKCSS) واقع امیراکدل بنڈ اور رہائش گاہ واقع سونوار پر چھاپے مارے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ان چھاپوں میں این آئی اے کے ہمراہ پولیس اور سی آر پی ایف کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی این آئی اے نے وادی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے اور خرم پرویز کی بینک تفاصیل اور دیگر دستاویز جانچ کے لیے اپنے قبضہ میں لیے تھے۔ یاد رہے خرم پرویز عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کارکن ہیں جنہیں اب تک کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ خرم کو حکام نے 2016 میں اس وقت حراست مین لیا تھا جب کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے ۔ ان مظاہروں کے وقت جموں و کشمیر مین محبوبہ مفتی کی قیادت میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت برسراقتدار تھی۔ خرم پرویز کی گرفتاری پر عالمی حقوق تنظیموں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جسکے بعد حکومت نے انہیں رہا کردیا۔ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کا نیم خود مختار درجہ ختم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعد کشمیر میں انسانی حقوق اداروں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، چنانچہ گزشتہ دو برسوں کے دوران خرم اور انکی تنظیم کی سرگرمیان بھی محدود رہی ہیں۔










