(قاہرہ)مصر کی فوجداری عدالت نے ایک نیا حکم جاری کیا ہے جس میں اخوان المسلمون کو پانچ سال کی مدت کے لیے دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس فیصلے میں اخوان کے 20 رہنماؤں اور اراکین کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے ساتھ ساتھ ایسپائر پروڈکشن ہائوس اورڈیلٹا ڈویلپمنٹ فار رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ نامی کمپنیوں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے گئے۔ یہ فیصلہ پانچ سال کی مدت کے لیے ہے۔ یاد رہے اپریل 2018 میں فوجداری عدالت نے اخوان کے 1,527 افراد اور رہنماؤں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے جاری کیے اور سال 2020 میں مصری حکام نے اخوان کے متعدد دیگر رہنماؤں اور اراکین کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔پبلک پراسیکیوشن نے گروپ کے رہنماؤں اور اس کے کچھ وفاداروں کی ایک بڑی تعداد کو شامل کرنے اور ان کے فنڈز ضبط کرنے کی درخواست جمع کرائی۔ ان پر مسلح تحریک اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ان کے حامیوں کی طرف سے فنڈز کی فراہمی جیسے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ فہرستوں میں شامل ناموں نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مالی معاونت، گروپ کے ارکان کو تربیت دینے، دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تیار کرنے، انہیں لاجسٹک مدد فراہم کرنے، افواہوں کو فروغ دینے کے جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ عناصر قومی سلامتی کو متاثر کرنے اور نقصان پہنچانے کے جرم میں ملوث تھے۔ ریاست کا اندرونی نظام تباہ کرنے اور بعض غیرقانونی طورپر منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔











