(جدہ) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے جموں و کشمیر میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں اور آبادی کے تناسب میں مبینہ تبدیلی کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ او آئی سی نے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بیان میں او آئی سی کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حلقہ بندیوں کا عمل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون جس میں جنیوا کنونشن بھی شامل ہے، کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے پر دیرینہ اور اصولی مؤقف، اسلامی سربراہ کانفرنس اور وزرائے خارجہ کونسل کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے او آئی سی سیکرٹریٹ نے جموں و کشمیر کے عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد میں ان کے ساتھ ایک بار پھر یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اوآئی سی نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں عالمی برداری خاص طور پر سلامتی کونسل پر زور دیا کہ جموںو کشمیر میں حلقہ بندیوں کے سنگین نتائج کا نوٹس لے۔
#OIC General Secretariat expresses deep concern over #India’s attempts to redraw the electoral boundaries of the #Indian Illegally Occupied #Jammu and #Kashmir, altering the demographic structure of the territory and violating the rights of the #Kashmiri people. pic.twitter.com/XsUqjEIsLA
— OIC (@OIC_OCI) May 16, 2022
دریں اثناحکومت ہند کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگجی نے کہا او آئی سی بیان کے جواب میں کہا ہے کہ ، ‘ہمیں حیرت ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر ہندوستان کے اندرونی معاملات کے حوالے سے غیر ضروری تبصرہ کیا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی حکومت ہند نے جموں وکشمیر کے حوالے سے او آئی سی کےبیانات کو مسترد کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور رہے گا۔










