سرینگر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود، یہ کشمیر کے لوگ ہیں جو امرناتھ یاترا کے یاتریوں کو تحفظ کا حقیقی احساس فراہم کرتے ہیں.
دو سال کے طویل عرصہ بعد آج سے باضابطہ طور امرناتھ یاترا شروع ہوگئی، ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے ننون بیس کیمپ سے 2750 یاتریوں پر مشتمل پہلے جتھے کو جھنڈی دکھا کر شری امرناتھ گھپا کی اور روانہ کیا ۔
محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا: ‘اس سال کی یاترا دو سال کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے اور مجھے یقین ہے کہ کشمیری ہمیشہ کی طرح ان کا تہہ دل سے استقبال کریں گے۔ یاترا کے راستے میں دکانوں کو بند کرنے سمیت سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود، یہ ہم کشمیری ہیں جو یاتریوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔”
پی ڈی پی صدر کے تبصرے شہر کے پنتھاچوک علاقے کے دکانداروں کے ایک گروپ کے احتجاج کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں امرناتھ یاترا کی مدت کے لیے اپنے کاروبار بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جو 11 اگست کو ختم ہوگی۔ ”
”واضح رہے کہ سخت سکیورٹی کے بیچ امرناتھ یاترا کا پہلا قافلہ آج پہلگام کے نن ونن بیس کیمپ سے بحافظت شری امرناتھ گپھا کی اور روانا ہو گیا ہے۔ امرناتھ یاترا شروع ہونے سے قبل انتظامیہ کی جانب سے امرناتھ یاتریوں کے لیے ہر طرح کی سہولیات قبل از وقت مکمل کر لی گئیں تھیں۔
واضح رہے کہ سطح سمندر سے 13000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پہاڑی غار میں گرما کے دوران بننے والی ایک برفانی شبیہ کو شو کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جس کی ہندو عقیدت مند پوجا کرتے ہیں۔ امرناتھ یاتریوں کے لیے اس سال آن لائن ہیلی کاپٹر بکنگ سروس بھی شروع کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ یاتری ہوائی سفر کی سہولت سے براہِ راست سرینگر سے پنج ترنی پڑاؤ کا سفر کر سکیں گے اور یاترا کو ایک ہی دن میں مکمل کرسکیں گے۔ 43 دنوں تک جاری رہنے والی یاترا کے لیے تاحال سوا تین لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے اپنا رجسٹریشن کروایا ہے اور انتظامی مشینری کی جانب سے بھی یاتریوں کی حفاظت اور قیام و طعام کے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں۔










