امت نیوز ڈیسک // جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے لالبازار میں گذشتہ شام پولیس اہلکاروں پر عسکریت پسندوں کے حملے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس حملے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر مشتاق احمد ہلاک ہوئے تھے اور دو دیگر اہلکار زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کی حالت اب مستحکم بتائی جارہی ہے۔ اس حملے کے متعلق آئی ایس آئی ایس کے ٹویٹر ہینڈل اعمال پر ویڈیو شائع ہوا ہے جس میں ایک عدم شناخت عسکریت پسند پولیس گاڑی پر گولیاں چلارہے ہیں اور گاڑی کے باہر کھڑے پولیس اہلکار اپنی آپ کو گولیوں سے بچاتے نظر آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سرینگر کے لال بازار علاقے میں منگل کی سہ پہر کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے پولیس کی ناکہ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔مہلوک اے ایس آئی ضلع کولگا کت رہنے والے تھے۔ اور بتایا جارہا کہ مہلوک کا بیٹا عسکریت پسند تھا جسے دو سال قبل ہلاک کیا گیا تھا
لال بازار سرینگر میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا ویڈیو جاریپولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ منگل کی سہ پہر کو سرینگر کے لال بازار علاقے میں عسکریت پسندوں نے جموں وکشمیر پولیس کی ناکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس وجہ سے تین اہلکار زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہوئے تین پولیس اہلکاروں کو علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال صورہ میڈیکل منتقل کیا گیا،جہاں پر تعینات ڈاکٹروں نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر مشتاق احمد کو مردہ قرار دیا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (کشمیر زون) وجے کمار نے منگل کے روز سرینگر کے لال بازار علاقے میں ہوئے عسکری حملے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ موقع واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ حملے میں ایک پولیس اے ایس آئی، ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ "چونکہ آج عیدالاضحیٰ کا تیسرا دن تھا اس لیے لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔ بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی چھوٹی ٹیم کا علاقے میں ناکا لگایا تھا۔ اس ٹیم میں پولیس کا ایک اے ایس آئی اور دو اہلکار تھے۔” اُن کا مزید کہنا تھا کہ "عسکریت پسندوں نے چھوٹے ناکے اور لوگوں کی بھیڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کے ناکے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں اے ایس آئی مشتاق احمد ہلاک ہو گئے جبکہ دیگر دو زخمی ہوئے.









