امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: وادی کشمیر کی مختلف دینی تنظیموں کے ایک 5 رکنی وفد نے پیر کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی جس میں علماء کرام کی گرفتاری، کاشتکاروں کو درپیش مسائل سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایل جی منوج سنہا سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے وفد میں شامل معروف عالم دین مولانا غلام رسول حامی نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی مسائل پر بات چیت کی جس میں وادی کشمیر میں گذشتہ چند دنوں کے دوران متعدد مذہبی علماء کی گرفتاری اور پھلوں کے کاشتکار کو درپیش مسائل شامل ہیں ۔
کشمیری علماء کا وفد منوج سنہا سے ملاقیحامی نے کہا کہ انہوں نے سبھی مسائل ایل جی سنہا کی نوٹس میں لائے اور گورنر نے انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وفد میں شامل ایک اور رکن مولانا غلام محی الدین نقیب نے کہا کہ انہوں نے ایل جی کے ساتھ متعدد مسائل خاص طور پر مذہبی علماء کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا جس پر ایل جی نے انہیں مثبت جواب دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ایل جی سنہا کی جانب سے مثبت جواب ملا اور امید ہے کہ گرفتار کیے گئے مذہبی علماء کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ ہم نے کاشتکاروں کا مسئلہ بھی اٹھایا، جنہیں اپنی پیداوار کی نقل و حمل میں مسائل کا سامنا ہے۔ ایل جی نے اس کا بھی مثبت جواب دیا اور کہا کہ حکومت اس سلسلے میں جلد اقدامات اٹھائے گی۔‘“
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران وادی کشمیر میں کئی مذہبی علماء کو گرفتار کیا گیا جب کہ ان میں سے چند پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے انہیں کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔ حراست میں لیے گئے علماء میں جمعیت اہلحدیث کے معروف مبلغ مشتاق احمد ویری اور مولانا بشیر احمد ڈار المدنی کے علاوہ جمعیت اہل السنۃ کے رکن اور جنوبی کشمیر کے معروف مبلغ مولانا عبد الرشید داؤدی شامل ہیں۔
گزشتہ روز جموں و کشمیر پولیس کے اے ڈی جی پی وجے کمار نے کہا تھا علماء کو کشمیری نوجوانوں کو ورغلانے اور کئی بار متنبہ کرنے کے باوجود باز نہ آنے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔