وادی کشمیر میں آج کل جہاںدھان فصل کی کٹائی کا سیزن جاری ہے، اسی دوران درختوں سے میوہ اُتارنے کا سیزن بھی شروع ہوچکا ہے۔ وادی کشمیر میں میوہ صنعت سے جڑے افراداس وقت اپنے باغوں میں سیب اُتارنے کےساتھ مصروف دیکھائی دے رہے ہیں ۔ سیب کی کئی اقسام اُتار کر ڈبوں میں پیکنگ کے بعد دیگر ریاستوں کی منڈیوں میں فروخت کی جاتی ہےں ۔ سیب کی پیکنگ کئی مرحلو ں کے بعد مکمل ہوتی ہے ۔ پہلے مزدور درخت سے سیب اُتار کر ڈبوں میں بھر کر کسی موذوں جگہ جمع کرتے ہیں ۔ اسکے بعد سیب کی گریڈنگ ہوتی ہے اور تجربہ کار افراد اسکی پیکنگ گریڈنگ کے حساب سے کرتے ہیں ۔پورے ملک میں سیب کی پیدوار سب سے زیادہ وادی کشمیر سے ہی ہوتی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ملک میں78 فیصد سیب کی پیدوار کشمیر میں ہوتی ہے جبکہ باقی ہماچل پردیش سے ہوتی ہے ۔ ہر سال میوہ صنعت جموں وکشمیر میں30 سے35 لاکھ افراد کو روز گار بھی فراہم کرتی ہے ۔ جبکہ میوہ صنعت سے سالانہ آٹھ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے جو جموںو کشمیر کے جی ڈی پی کادس فیصد بنتا ہے ۔
تاہم رواں سال فروٹ گروورس خوش دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔کیوں کہ ایک طرف جہاں سیب کی قیمتوں میں کمی اور دوسری طرف سے سرینگر جموں قومی شاہراہ پر میوہ گاڑیوں کوبلاوجہ روکنے کا الزام لگایاجارہاہے ۔ اس کو لے کر ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فرونٹ منڈی سوپور اور دیگر منڈیوںمیں شاہراہ پر گاڑیوں کو روکے جانے کے خلاف رواں ماہ پُرامن احتجاج بھی کئے گئے۔اس صنعت سے جڑے افراد نے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے معاملے کو حل کرنے کی درخواست کی تاکہ اس صنعت سے جڑے افراد کوہورہے نقصان سے بچایا جاسکے۔ وہیں متعدد سیاسی لیڈران کی جانب سے بھی فروٹ گروورس کوہو رہے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔اس معاملے کے بعدمتعلقہ محکموں اور فروٹ گروورس انجمنوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد آئی جی ٹریفک نے کہا کہ اب سیب سے بھری ٹرکوں کو خصوصی اسٹیکر فراہم کئے جائیں گے اور جس گاڑی پر یہ ا سٹیکر ہو گا وہ اس بات کی ضمانت ہو گی کہ اس میں سیب ہے اوران ٹرکوں کو ترجیح بنیادوںپر شاہراہ پر چلنے کی اجازت ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پرچلنے کے دوران میوہ بردار گاڑیوں کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی بلکہ انہیں جلد از جلدمنڈیوںتک پہنچانے کے لئے رسائی فراہم کی جائے گی۔ وہیں دوسری طرف سے فروٹ گروورس کو میوہ کی گرتی قیمتوں کا مسئلہ بھی درپیش ہے ۔خاص طور پر گزشتہ سال سے ایران سے میوہ کی درآمدگی سے تاجران سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں ۔
پچھلی ایک دہائی سے میوہ صنعت سے وابستہ بارہمولہ کے کاشتکارہلال احمد میر کا ماننا ہے کہ انہیں ایرانی سیب کی درآمدگی سے خاصا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ہر سال سیب کی صنعت سے جڑے افراد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب اس میں خسارے سے لوگ یہ صنعت بھی آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے۔
گزشتہ سال اپریل سے اکتوبر تک ایران سے تقریباً30 ہزار میٹرک ٹن سیب کی درآمدگی ہوئی تھی ۔ وادی کشمیر ہر سال15 سے20 لاکھ میٹرک ٹن سیب کی پیداوار کرتا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔کیوں کہ وادی کشمیر میں پانی کی کمی کی وجہ سے گاو¿ںدیہات میں لوگ اب دھان کی فصل کو ختم کر کے سیب کے پودے ہی لگا رہے ہیں ۔اور اب وادی میں ان ہی علاقوں میں دھان کی فصل ہورہی ہے جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے ۔ دوسری طرف کشمیر کا میوہ بیرون ممالک بہت ہی کم درآمد کیاجاتا ہے ، صرف دو ممالک نیپال اور بنگلہ دیش کشمیر کے سیب جاتے ہیں وہ بھی ایک فیصد نہیں بنتا ہے۔ رواں سال اعدادوشمار کے مطابق بنگلہ دیش میں 12ہزار میٹرک ٹن اور نیپال میں8 ہزار میٹرک ٹن سیب کی درآمدگی کی گئی ہے ۔وہیں تاجروں کا کہنا ہے کہ ایران سے سیب کے ٹرک دہلی کی منڈیوں میں پہنچتے ہی وادی کے سیب کی قیمتیں 30 سے چالیس فیصد تک گر جاتی ہے ۔
ایک تاجرفاروق احمد وانی نے کہا کہ ایرانی سیب مارکیٹ میں آتے ہی وادی کے سیب کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی جاتی ہے۔ جہاںسیب کا ڈبہ ایک ہزار سے12 سو روپے کے درمیان فروخت ہورہا ہوتا ہے وہ پھر پانچ سو سے آٹھ سو روپے کے درمیان فروخت ہوجاتا ہے ۔ادھر تاجروں کے مطابق رواں سال پیکنگ ڈبوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے میوہ کی لاگت بھی اب زیادہ آرہی ہے۔ جس کی وجہ سے آج کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی میوہ صنعت خسارے سے دوچار ہے ۔









