سرینگر//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یکم اکتوبر سے جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہوں گے۔ اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان، شاہ ایل او سی سے متصل چار اضلاع میں 18 لاکھ سے زیادہ ووٹروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ راجوری، پونچھ کے علاوہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور کپواڑہ کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ووٹروں تک ان کی رسائی کی کوشش کی جائے گی۔ یکم اکتوبر کو جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر آنے والے اسمبلی انتخابات کی گونج کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایل او سی کے ساتھ چار اضلاع میں 18 لاکھ سے زیادہ رائے دہندوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ راجوری، پونچھ کے علاوہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور کپواڑہ کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ووٹروں تک ان کی رسائی کی کوشش کی جائے گی۔حالانکہ جنوبی کشمیر میں بھی پہاڑی برادری کی آبادی ہے لیکن یہاں ان کی تعداد کم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاہ اپنے دورے کے دوران پہاڑی برادری کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دے کر بی جے پی کے حق میں کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ان کا دورہ کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔حد بندی کے بعد درج فہرست قبائل کے لیے نو نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ راجوری، پونچھ میں پانچ سیٹیں ایس ٹی کے لیے مخصوص ہیں، لیکن پہاڑیوں کا اثر باقی تین سیٹوں پر بھی ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کی گریز، گاندربل کی کنگن اور اننت ناگ کی کوکرناگ سیٹیں وادی کشمیر میں محفوظ ہیں۔ ان تمام نشستوں پر پہاڑیوں کا غلبہ ہے۔اس کے علاوہ کپوارہ کے کرناہ، ا ±ڑی وغیرہ کی سیٹوں پر بھی ان کا اثر ہے۔ پوری ریاست میں کل 12 سیٹیں پہاڑیوں کے زیر اثر ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دے کر امیت شاہ ان سیٹوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ان چار اضلاع میں کل 18.07 لاکھ ووٹر ہیں جہاں امت شاہ نے لوگوں کی میٹنگ کی۔ یہ تعداد تین سال بعد ہونے والے ووٹر ریویڑن میں مزید بڑھ جائے گی۔ ایسے میں ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔ کپواڑہ میں 447215، بارہمولہ میں 642299، راجوری میں 417102 اور پونچھ میں 301181 ووٹر ہیں۔بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل سی وبود گپتا، جو راجوری میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ ایس ٹی کا درجہ ملنے سے پہاڑیوں کی ہمہ جہت ترقی کی جائے گی۔ پہاڑی برادری کے لوگ پر امید ہیں کہ اس بار انہیں ان کا حق مل جائے گا۔پہاڑی برادری تین دہائیوں سے زائد عرصے سے شیڈول ٹرائب کا درجہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ تحریک سے وابستہ احسان مرزا، نیتن شرما اور ندیم خان کا کہنا ہے کہ 1989 سے پہاڑی برادری حق کے لیے لڑ رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ امیت شاہ اپنے دورے کے دوران اپنے احتجاج کے صلہ کا اعلان کریں گے۔اس وقت بھی متواتر جلسے کر کے برادری کے لوگوں کو متحد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں اپنے دورے کے دوران شاہ نے جموں میں منعقدہ ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ پہاڑی آنے والے وقت میں ریاست کے وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں۔ یہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس وقت سے لے کر اب تک پہاڑیوں کو امید ہے کہ جلد ہی ان کی جدوجہد رنگ لائے گی۔ نیتن کا کہنا ہے کہ اب ریاستی سطح پر بھی 2018 میں پہاڑیوں کو چار فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا۔ آٹھ لاکھ کی آمدنی میں بھی رکاوٹ ہے۔








