مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموںو کشمیر کا تین روزہ دورہ مکمل کیا ۔ انہوںنے کئی اعلانات کے ساتھ ساتھ راجوری اور بارہمولہ میں بڑی عوامی ریلیوں سے بھی خطاب کیا ۔ ریلیوں سے خطاب کے دوران انہوںنے پہاڑی طبقے کو ریزرویشن دینے کا بھی اعلان کیا ۔ سوموار کو جموں پہنچنے کے بعدان سے گجر ، بکروال ،پہاڑی، ڈوگرہ اور سکھ وفود نے ملاقاتیں کیں ۔ جبکہ اسکے دوسرے روز انہوں نے کٹرہ میںواقع ویشنو دیوی مندر میں حاضری دی ۔اسکے بعد راجوری میںانہوں نے بڑے عوامی جلسے سے خطاب کیا ۔ جہاں انہوں نے مفتی خاندان اور شیخ خاندان پر کئی تیکھے وار کئے ،وہیں انہوںنے اسکے علاوہ دفعہ370 کی منسوخی کے فوائد گنوانے کے ساتھ ساتھ پہاڑیوں کو ریزرویشن دینے کا بھی اعلان کر دیا ۔مرکزی وزیر داخلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر ایک محفوظ ترین جگہ بن گئی ہے کیونکہ ملی ٹنسی سے متعلق واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ یہاں کے نو جوانوں کے ہاتھوں میں پتھر کے بجائے لیپ ٹاپ ہیں۔
دفعہ370 کی منسوخی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جو لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر دفعہ 370ہٹایا گیا تو خون کی ندیاں بہہ جائیں گی ان کو جموں و کشمیر میں ہونے والے ملی ٹنسی سے متعلق واقعات کے اعداد و شمار دیکھنے چاہئے۔ ان کا کہنا تھا جموں و کشمیر میں ہر سال ملی ٹنسی سے متعلق 4767 واقعات رونما ہوتے تھے لیکن دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد ان اعداد و شمار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اس نوعیت کے صرف 721 واقعات پیش آئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مابعد پانچ اگست 2019 جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی تعد اد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جو اب ہر سال 137 تک پہنچ گئی ہے ۔ امیت شاہ نے گجر ، بکروال اور پہاڑی طبقے کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جموں و کشمیر میں ان تین (شیخ، مفتی اور گاندھی)خاندانوں‘ جنہوں نے حکومت اپنے آپ ، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک محدود رکھی ہے ، کی ہر الیکشن میں شکست کو یقینی بنائیں۔ان تین خاندانوں نے 70 برسوں تک یہاں خاندانی راج کیا اور عام لوگوں کو جمہوریت کے لئے ترسایا۔ امیت شاہ کا کہنا تھاکہ آج یہاں لوگوں کو گرام پنچایت ہے ، ضلع پنچایت اور تحصیل پنچایت ہے جو گذشتہ 70 برسوں کے دوران نہیں ہوا کرتا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کو 87 ارکان اسمبلی اور 6 ارکان پارلیمان تک محد ودر کھا گیا تھا جبکہ گجر ، بکر وال اور پہاڑی طبقوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ غلام نبی کھٹانہ کو راجیہ سبھا کے لئے نامز دکر کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات ثابت کر دی کہ وہ سماج کے تمام طبقوں کونمائندگی دینے کے لئے پر عزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں 56 ہزار کروڑ روپیوں کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزہ گار کے موقعے میسر ہوں گے۔امیت شاہ نے کہا کہ رشوت جو یہاں گذشتہ 70 برسوں کے دوران عروج پر تھی‘ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے ہم نے انٹی کور پیشن بیور و بنایا۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کو گجر ، بکروال اور پہاڑی طبقوں کو نمائندگی دینے کے لئے تشکیل دیا گیا جو بصورت دیگر ایک خواب ہی تھا۔ ان کا لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہنا تھاکہ یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ آپ لوگوں کا استحصال کیا۔سیاسی ماہرین مانتے ہیں کہ اس تقریر سے باضاطہ طور پر امیت شاہ نے جموںو کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی مہم کی شروعات کی ہے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر میں گجر بکروال کے بعد اب پہاڑیوں کو ایس ٹی درجہ دے کر ان کا ووٹ حاصل کر نے کی کوشش کرے گی۔
امیت شاہ اسی روز شام کو سرینگر پہنچے جہاں انہوںنے راج بھون سرینگر میں کئی وفود سے ملاقات کی جن میںسیاسی و غیر سیاسی شخصیات کے علاوہ تجارتی انجمنوں و ٹرانسپورٹ انجمنوں کے نمائندگان شامل تھے۔وہیں اس دوران اپنی پارٹی صدر الطاف بخاری کی صدارت میں پارٹی وفد نے بھی انکے ساتھ ملاقات اور جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی اور الیکشن کروانے کی مانگ رکھی ۔ اگلے روزمرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے سرینگر میں ہی اعلی سطحی میٹنگ میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں انہوںنے عسکریت پسندی سے نمٹنے اور دراندازی کو روکنے میں دفعہ370 کے بعدسیکورٹی ایجنسیوں کے کردار کی ستائش کی ۔اسکے بعد وہ بارہمولہ پہنچے جہاں انہوںنے لوگوں کی ایک عوامی جلسہ سے خطاب کیا ۔ اس دوران انہوںنے بارہمولہ میں بھی نام لے کر مفتی اور عبداللہ خاندان پر نشانہ سادھا۔انہوںنے تقریر کے دوران کہا کہ ’’ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ نے کشمیر میں ستر برس تک حکومت کی ،وہ عوام کو حساب دیں کہ یہاں کی تعمیروترقی کےلئے انہوں نے کیا کیا؟‘‘انہوںنے مزید کہاکہ ان لیڈرا ن نے اقتدار میں رہ کر رشوت خوری کی اور اپنے گھر آباد کئے،لیکن عوام کےلئے کچھ نہیں کیا۔وہیں انہوں نے محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان سے بات کرو،لیکن ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں کے لوگوں سے بات کریں گے ‘‘۔انہوں نے مزید مقامی سیاسی جماعتوں پر تیکھے وار جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ مفتی اینڈ کواور عبداللہ اینڈ سنز نے کشمیر کو’’ٹیررِسٹ اسپاٹ‘‘ بنایا جبکہ مودی جی نے اسے’’ٹیورسٹ اسپاٹ‘ ‘بنایا۔انہوںنے کہا کہ جموںو کشمیر میںعسکریت پسندی کے واقعات میں اب تک بیالیس ہزار افراد مارے گئے،لیکن ان لیڈران کا کوئی بھی بیٹا اس دوران نہیں مر!یہ صرف ایک غریب شخص ہی ہے جیسے دنیا کا سب سے بھاری بوجھ اپنے بیٹے لاش اٹھانی پڑی۔امیت شاہ نے بارہمولہ کی اپنی تقریر میں وہی باتیں دہرائی جو انہوںنے راجوری میں اپنی تقریر کے دوران کہی تھیں،جس میں دفعہ 370 اور پہاڑیوں کو ریزرویشن کا معاملہ شامل ہیں ۔
ریلی کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ سرحدی قصبہ اوڑی گئے جہاں انہوںنے مقتول پولیس اہلکار مدثر احمد شیخ کے گھر جا کر اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ اس دوران انہوںنے مدثر کی قبر پر بھی جاکر وہاں گل باری کی۔
واضح رہے دفعہ370 کی منسوخی کے بعدوزیر داخلہ کا یہ پہلا دورہ جموں وکشمیر تھا ۔ اس دوران راجوری اور بارہمولہ میں بھی بھاجپا لوگوں کی ایک کثیر تعداد جمع کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ جبکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ دورہ انتخابات کے حوالے سے تھا ۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھاجپا جموں اضلاع کے علاوہ پیرپنچال کے دو اضلاع اور وادی کے سرحدی علاقوں میں رہ رہے گجر ،بکروال اور پہاڑی ووٹ کو حاصل کر نا چاہتے ہیں ۔ پہاڑی طبقے کو خوش کرنے کےلئے امیت شاہ نے اپنے تقاریر کے دوران انہیں بھی ایس ٹی درجہ دینے کا اعلان کیاجس سے امر واقع پہاڑی طبقہ خوش ہے ۔ وہیں دوسری طرف گجر طبقہ پہاڑی طبقے کو ایس ٹی کا درجہ دینے کا خلاف تھا کیونکہ ان کاماننا ہے کہ پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی قرار دینے کے بعد ان کے حصے کی ریزرویشن اور مراعات میں کمی واقع ہوگی جس کے خلاف انہوں نے احتجاج بھی کیا ۔اگر چہ وزیر داخلہ نے اس بارے میں تمام طبقات میں مساوی کا اعادہ کیا ہے لیکن اس سب کے باوجود کیا بھاجپا گجر، بکروال اور پہاڑی ووٹ کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یہ انتخابات کے بعد ہی پتہ چل پائے گا ۔
دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ کے دورہ جموں و کشمیر کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سڑکوں اور شاہراؤں پر جگہ جگہ فورسز کے ناکے لگائے گئے تھے جہاںسے گزرنے والی گاڑیوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جارہی تھی۔ اس دوران پلوامہ کے ہال علاقے میں فورسز کی جانب سے لگائے گئے ایک ناکے پر گولی لگنے سے بائیک سوار 25سالہ نوجوان محمد آصف پڈرو ولدمحمد ایوب پڈرو ساکن پوتروال شوپیان کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ گولی حادثاتی طورلگی اور اس ضمن میں ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کیا گیا ہے جس کی سروس رائفل مبینہ طور پر غلطی سے چلی ،اور مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ادھرمہلوک نوجوان کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب آصف اپنے چچچیرے بھائی فیاض احمد کے ساتھ بونورہ پلوامہ میں پھوپھی کے پاس جانے کیلئے ایک ساتھ نکلے ۔انکا کہنا تھا کہ فیاض اپنی سکوٹی چلا رہا تھا اور آصف پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ہال پلوامہ پل پر چنار درخت کے بالکل قریب پولیس ناکہ پار کرتے ہی آصف کے سر پر گولی لگی اور زخمی ہوا۔فیاض نے فوراً سکوٹی روک لی اور گھروالوں کو فون پر اطلاع دی کی آصف کے سر میں گولی لگی ہے اور وہ شدید زخمی ہوا ہے ۔اسکے بعد اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر منتقل کردیا گیا جہاں وہ دم توڑ بیٹھا۔اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائیں کیونکہ انہیں پولیس بیان پر بھروسہ نہیں ہے ۔ ولدمحمد ایوب پڈرو ساکن پوتروال شوپیان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔










