امت نیوز ڈیسک//
سرینگر:نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلی عمر عبدللہ نے کہا کہ حکومتی دعوے کہ کشمیر میں حالات سازگار ہیں،تو کشمیری پنڈت یہاں سے بھاگنے پر پھر سے مجبور کیوں ہو رہے ہیں۔ایسے میں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کے بعد نہ صرف پی ایم پکیج ملازمین کشمیر چھوڑ کر چلے گئے ہیں بلکہ برسوں سے یہاں رہ رہے کشمیری پنڈت بھی حالیہ ہلاکتوں سے کشمیر چھوڑ چکے ہیں۔ اس بیچ موجودہ حکومت کے کھولے اور جھوٹے دعوے کہ یہاں سب کچھ نارمل ہیں۔ان باتوں کا اظہار عمر عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔
اگر حالات سازگار ہیں، تو کشمیری پنڈت کیوں پھر سے بھاگ رہے ہیں، عمر عبداللہعمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں یہاں بہتر طور بسانے میں ناکام ہوئی ہے۔البتہ ملک بھر میں یہ پروپیگنڈہ ضرور کیا جاتا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کےبعد سے کشمیر میں حالات بہتر ہوئے ہیں جس کے چلتے لاکھوں کی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کررہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت سیاحوں کی غلط اعداد و شمار پیش کر کے ملک کو گمراہ کررہی ہے اصل میں سیاحوں کی تعداد بھی 15 سے 18 لاکھ کے درمیان ہوگی اس سے زیادہ نہیں ۔لیکن اس پر ستم ظریفی یہ کہ انتظامیہ یہاں آئے یاتریوں کو بھی سیاحوں میں شمار کرکے سیاحوں کی بھاری تعداد کو بتاتے نہیں تھکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس خوش فہمی سے باہر نکل کر کشمیر کے زمینی حقائق کا احساس و ادراک کرکے مسلے کی حل کے لیے کام کرنا ہوگا اور جو نوجوان ناراض ہیں انہیں ملکی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔عمر عبدللہ نے کہا کہ اس تعلق سے ہم بھی حکومت کی مدد کریں گے اور نیشنل کانفرنس ایسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ یہاں ساز گار اور پرامن ماحول بنانے کی کوشش کی ہے۔








