امت نیوز ڈیسک //
سرینگر /// جموں کشمیر میں نارکوٹس کے ذریعے ملی ٹنسی فنڈنگ کے روکتھام کیلئے مرکزی سرکار کافی سنجیدہ ہو گئی ہے اور اس طرح کی کارورائیوں کو روکنے کیلئے کچھ اہم اقدامات اٹھائیں گئے ہیں جن میں خاص طو رپر قومی اور یوٹی سطح پر مختلف ایجنسیوں کے ساتھ تال میل، ڈارک نیٹ اور کرپٹو کرنسی پر کڑی نگرانی شامل ہے۔ جموںکشمیر میں ملی ٹنسی فنڈنگ کے روکتھام کیلئے جہاں پہلے ہی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کارورائی تیز کی جا رہی ہے وہیں مرکزی سر کار بھی اس معاملے میں کافی سنجیدہ ہو چکی ہے او ر فنڈنگ کو روکنے کیلئے مختلف نوعیت کے اقداما ت اٹھائیں جا رہے ہیں ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مرکزی اور جموں کشمیر کی حکومتیں نارکو ٹیرس فنڈنگ پر سختی کر رہی ہیں ان رپورٹوں کے بعد کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم، کچھ معاملات میں، ملی ٹنسی کی فنڈنگ کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور اب، ایسے تمام معاملات میں یو اے پی اے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ فنڈنگ کے روکتھام کیلئے تفتیشی ایجنسیوں کو کھاتوں کو منجمد کرنے، جائیداد کی قربت خاص طور پر نارکو تجارت کے ذریعے اٹھائے گئے غیر متناسب اثاثوں جیسے سخت اقدامات میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نارکو ٹیرر فنڈنگ کیس کی تحقیقات میں مالی تحقیقات کا باب شامل کیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ یوٹی حکومت نے تفتیشی ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ نارکو ریکوری کیس میں منی ٹریل کی پیروی کریں جس سے فنڈنگ کے صحیح ذرائع کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی اور زیادہ تر معاملات ملی ٹنسی کی فنڈنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اسی مناسبت سے، تفتیشی ایجنسیوں بشمول پولیس، انٹیلی جنس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں کہ عسکریت پسندوں کی یہ حکمت عملی بھی کامیاب نہ ہو۔ حکومت نے تفتیشی ایجنسیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ملی ٹنسی کی فنڈنگ میں ڈارک نیٹ اور کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈارک نیٹ اور کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے یقینی طور پر کچھ اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ذرائع نے تاہم برقرار رکھا کہ انہیں ظاہر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے انکشاف سے عسکریت پسندوں، منشیات کے اسمگلروں اور ملی ٹنسی کی فنڈنگ میں ملوث دیگر افراد کو مدد ملے گی۔











