امت نیوز ڈیسک //
سرینگر / پاکستان اور چین کی سرحدوں پر سیکورٹی صورتحال اور فوجیوں کی آپریشنل تیاریوں کے علاوہ دیگر امور کا جائزہ لینے کیلئے نئی دلی میں فوج کے اعلیٰ افسران کا اجلاس سوموار سے شروع ہوگا جس میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کانفرنس سے خطاب کریں گے۔سرحدوں پر سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے فوجی کمانڈروں کی میٹنگ سوموار سے دلی میں منعقد ہونگی ۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کانفرنس سے خطاب کریں گے۔جنرل چوہان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آرمی کمانڈروں کی یہ پہلی کانفرنس ہوگی۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے تمام اعلیٰ افسران سوموار سے نئی دلی میں سرحدوں پر سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔عہدیداروں نے بتایا کہ جنرل منوج پانڈے کی قیادت میں فوج کے اعلیٰ افسران آرمی کمانڈروں کی کانفرنس کا حصہ ہوں گے جہاں وہ سیکورٹی اور آپریشنل تیاریوں سے متعلق تمام پہلوو ¿ں پر تبادلہ خیال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب کہ کانفرنس کے دوران آرمی کمانڈروں کے ذریعہ کئی مسائل کو اٹھایا گیا ہے، لیکن توجہ یقینی طور پر مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ کی صورتحال پر مرکوز ہوگی جہاں ہندوستانی اور چینی فوجیں ابھی بھی کچھ مقامات پر منقطع ہونے کے باوجود مصروف ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے بعد کچھ دوسرے علاقوں میں بھی ہوا ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر موجودہ صورتحال بھی آرمی کمانڈروں کی کانفرنس میں اعلیٰ سطحی بات چیت کے لیے آئے گی۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اندرونی سلامتی کی صورتحال اور وادی میں جاری عسکریت پسندی کے خلاف آپریشنز بھی میٹنگ میں زیر بحث آئیں گے۔ اس کانفرنس سے فوجیوں کے لیے مزید دیسی ہتھیاروں کے نظام کو تیار کرنے کیلئے دفاع میں میک ان انڈیا کو آگے بڑھانے کے نئے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ جنرل پانڈے دیسی بنانے کے زبردست حامی ہیں اور انہوں نے جدیدیت سے نمٹنے والے افسران سے کہا ہے کہ وہ عالمی معیار کے ہتھیار تیار کرنے کیلئے ہندوستانی نجی اور سرکاری شعبے کی فرموں کو روکیں۔











