سرینگر کے مضافات نشاط میں قائم واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے شہر کے جن علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی بہت ہی خراب، ناقص ، مضر صحت اور بدبو دار ہوتا ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ اس پانی میں کیچڑ کی آمیزش اس قدر ہوتی ہے کہ جن برتنوں میں پانی جمع کیا جاتا ہے ان میں کیچڑ کی بھاری تہہ جمع ہوجاتی ہے جبکہ اس پانی کا رنگ بھی مٹیالہ ہوتا ہے۔مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ اس طرح گھٹیا اور آلودہ پانی فراہم کرکے شہریوںکی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ صارفین کے مطابق 1989تک انہیں فراہم کئے جارہے پانی میں داوائی کا مناسب استعمال باضابطہ طور پر ہورہا تھا لیکن اب یہ سلسلہ روک دیا گیا ہے۔ اگر صارفین کی یہ شکایت درست ہے تو یہ معاملہ بہت ہی سنگین نوعیت کا ہے جس کی تحقیقات کرنا سرکار کی اہم اور اولین ذمہ داری ہے۔ اس لئے توقع رکھتے ہیں کہ سرکار اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لے کراس کی تحقیقات کرے گی اور شکایت درست پانے پر قصورواروںکے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سرکارپینے کی پانی میں استعمال دوائی کے مد پر سالانہ کروڑوں روپیہ صرف کرتی ہے لیکن اگر اس کے باوجود صارفین کو فراہم کئے جارہے پانی میں دوائی نہ ملانے کی شکایت ہو تو معاملہ یقینا تشویش کا مدعاہے جس کا فوری طور پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے صارفین تک جن پائپوں کے ذریعے پانی پہنچایا جارہا ہے وہ انتہائی بوسیدہ اور زنگ آلودہ اور ناصاف ہوگئی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بوسیدہ اور زنگ آلودہ پائپوں کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے، تاکہ صارفین کو شفاف اور معیاری پانی بہم کیا جاسکے۔ (اداریہ ہفت روزہ امت، 18نومبر2022)









