شاہد لطیف….
13نومبر کے روز لال چوک کا ایک طرف بند دیکھ کر نیزچہار جانب ایک سیاسی جماعت کے جھنڈے اور بینر دیکھ کر راہ گیر اور گاہک ہکا بکا ہوگئے۔ 5 نومبر2019ءکے بعد سے غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی بھی سرکاری رکاوٹ کے بغیر ایک سیاسی جماعت کا جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی جارہی تھی۔2019ءسے قبل جلسے جلوس ،ریلیاں اور احتجاج اس تاریخی جگہ کا گویا حصہ تھے لیکن 5 اگست 2019ءکے بعد سے اب تک ایسا جمود یاکہئے قبرستان کی خاموشی کا سماں رہا ہے کہ گویا یہ جگہ اس قسم کے کسی عمل سے کبھی آشنا ہی نہ ہو۔نعرے لگاتے لوگ، کشمیری لوک گیت گاتی خواتین، موٹر سائیکل پر پارٹی جھنڈے سجائے سوار اور گاڑیوں کی لمبی قطاروں کی معیت میں سیاسی لیڈران کی روانی راہ چلتے عوام کے لئے ایک حیران کن معاملہ تھا۔ یہ دراصل سید الطاف بخاری کی قیادت میں بنی جماعت ”اپنی پارٹی“ کی” میگا سرینگر ریلی “تھی جو تاریخی گھنٹہ گھر جس کے آس پاس یوں تو کوئی پرندہ تک پر نہیں مارسکتا،سے شروع ہوکر سرینگر کے کرکٹ اسٹیدیم میں جاکر رُکی جہاں الطاف بخاری سمیت پارٹی لیڈران نے اس سے خطاب کیا۔ اس ریلی اور جلوس کو بھارت بھر میں چھپنے والے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اچھی کوریج دی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے وہ ہر قسم کا آشیرواد حاصل تھاجو اس قسم کے حالات میں اس قسم کے جلسے جلوسوں کو درکار ہونا ضروری ہے۔ جلسے کے وقت اور حالات پر بحث تو چلتی رہے گی لیکن ہمیں جس بات نے سب سے زیادہ حیران کیا وہ اس جلسے سے سید الطاف بخاری کا خطاب تھا۔

آئین ہندکی دفعہ370 کے خاتمے کے بعد جب کشمیرکے اندر گویا سیاسی ایمرجنسی کا نفاذ تھا ،الطاف بخاری صاحب نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیااور جلد ہی کچھ جانے اور کچھ اَن جانے سیاسی و غیر سیاسی لوگ اس پارٹی کا حصہ بن گئے۔ الطاف بخاری نے اس پارٹی کو وجود میں لانے کے بعد بقول ان کے ’مقبول کے برعکس‘ حقیقت پر مبنی سیاست کرنے کا اعلان کردیا اور دفعہ370 اور 35۔اے کی بحالی،اٹانومی، سیلف رول، آزادی، حق خودرادیت وغیرہ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو خوابوں کا سوداگر او ر لاکھوں کشمیریوں کا قاتل قرار دیا۔ وہ بغیر کسی ابہام اور خوف کے کہہ رہے تھے کہ جو کچھ گزر چکا گزرچکا ہے اور اس کو واپس لانا ممکن ہے اور جو لوگ گزرے معاملات کی بحالی کےلئے جدوجہد کرنے کا اعلان کررہے ہیں وہ جھوٹے اور فریبی ہیں۔بظاہراسی حقیقت پسندسیاست بیانیہ کی وجہ سے ہی الطاف بخاری نے” پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن“ کے فورم میں شرکت سے روز اوّل سے ہی انکار کردیا تھا،حالانکہ اس اقدام سے وہ نہ صرف سیاسی تنہائی بلکہ عوامی سطح پر منفی تاثرات کا بھی شکار ہوئے۔ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ”بی“ ٹیم کا نام دیا گیا اور وہ بھی اسے کسی منفی شئے کے بجائے ایک تمغے کے طور پر قبول کرتے دکھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس زمانے میں بھی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقی ہوتے رہے اور کشمیریوں کویہ بتاتے رہے کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ نہ تو کشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑا جائے گا اور نا ہی یہاں کی نوکریاں باہر والوں کو دی جائیں گی۔
الطاف بخاری کے اس یک طرفہ یا کہئے بلاشرکت غیرے والی لو اسٹوری میں اس وقت دراڑ پڑ گئی جب پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون نے پی اے جی ڈی سے علیحدگی کرکے اپنی سولو فلائیٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی مبصرین کا یہ ماننا تھا کہ سجاد کا یہ فیصلہ دراصل دہلی میں قائم بی جے پی سرکار کی آشیرواد کا ہی نتیجہ ہے۔ ایسا تھا کہ نہیں لیکن اس تاثر ہی نے الطاف بخاری کی بلاشرکت غیرے والی لو اسٹوری میںموڑ لاکھڑا کیا۔ اس کے بعد اس لو اسٹوری میں ایک اور ٹو¿سٹ(موڑ)غلام نبی آزاد کی کانگریس سے جدائی اور جموں وکشمیر کی سیاست میں ایک نئی پارٹی کے ساتھ آمد نے لادیا۔ آزاد صاحب کے بارے میں بھی تاثر یہ ملا کہ ان کا نیا سیاسی سفر بھی دہلی سرکار کی ہی پشت پناہی سے ہی معرض وجود میں آیا ہے۔ ایسا تھا کہ نہیں لیکن محض تاثر نے ہی اپنی پارٹی کے سربراہ کو اتنا غصہ دلایا کہ وہ اکیلے غلام نبی آزاد کے خلاف میدان میں کود پڑے اور کئی عدد بیانات داغ کر ان کی سیاست کشمیر میں آمد پر اپنی ناراضگی کا اظہار کردیا۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ الطاف صاحب ایک کامیاب ترین بزنس مین ضرور ہیں لیکن سیاسی داﺅ پیچ میں وہ یہاں مات کھاگئے۔ انہوں نے دہلی میں براجمان سرکار کے کہنے پر مقبول سیاست کو خیر باد کہا اور بقول انکے حقیقت پسندانہ سیاست شروع کی۔ اس طرح انہوں نے عوامی مخالفت مول لے کر دلی سرکار کی حمایت پر اکتفا کیا لیکن دلی سرکار ان کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے کھلاڑیو ں کے ساتھ بھی سیاسی معاشقہ لڑاتی رہی۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ سرینگر ریلی میں الطاف بخاری جہاں ایک طرف خوابوں کی سوداگری والی سیاست پر طعن و تشنیع کستے رہے وہیں دوسری جانب خود بھی دبے الفاظ میں ہی سہی لیکن خوابوں کو بیچنے پر مجبور دکھائی دئے۔
ریلی میں موجود اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی ،آرٹیکل 370 اور35۔اے کی بحالی کے لئے سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑے گی اور اس کےلئے ملک کے بہترین وکیلوں کی خدمات حاصل کرے گی۔اپنی تقریر میں سید محمد الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کی ریاست کی بحالی اور اسمبلی انتخابات کے فوری انعقاد کا پُرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، اس بڑے عوامی اجتماع کے انعقاد کا کلیدی مقصد حکومت ہند پر زور دینا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرے اور بغیر کسی تاخیر کے اسمبلی انتخابات کرائے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ وہ حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا،جموں و کشمیر کے لوگ5اگست2019ءکے واقعے کی وجہ سے سخت مجروح ہوئے ہیں اور وہ خود کو بے اختیار محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں کچھ سکون دینے کے لیے یہ کنونشن ریاست کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے جو5اگست2019ءکے دن تک موجود تھی۔انہوں نے مزید کہا،اس کے علاوہ، ہم جلد از جلد اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ، جنہیں سیاسی طور پر بے اختیار کیا گیا ہے، جموں و کشمیر میں معاملات چلانے کے لیے اپنے نمائندے خود منتخب کر سکیں۔ اپنے نمائندے خود منتخب کرنا عوام کا حق ہے اور انہیں اس حق سے مزید محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایک منتخب حکومت کے وجود میں آنے سے لوگوں کو سیاسی اور انتظامی بااختیار بنانے کا احساس ملے گا، اور جمہوریت اسی طرح کام کرتی ہے۔اپنی پارٹی کے نظریے کا اعادہ کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، اپنی پارٹی سچائی اور دیانت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ”ہم فریبی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ اس طرح ہم عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتے۔ ہم صرف وہی کہتے ہیں جو ہمیں یقین ہے کہ ہم ان کے لئے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ ہم جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنائیں گے اور اس کے لوگوں کو سیاسی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنائیں گے۔ ہم ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ اہداف قابل حصول ہیں۔“انہوں نے مزید کہ ،روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس، ہم اپنے نوجوانوں کو جذباتی نعروں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ فریبی سیاست نے پہلے ہی ہمارے ہزاروںنوجوانوں کو کئی کئی سالوں تک جیلوں میں رکھنے یا قبرستانوں میں اُتارنے کا کام کیا ہے۔ اپنی پارٹی ہمارے نوجوانوں کا پرامن اور خوشحال مستقبل چاہتی ہے۔ انہوں نے موجود لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی نوجوان آبادی کے اُمید افزا مستقبل کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔اپنی پارٹی کے صدر نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان نظریات کے جال میں نہ پھنسیں جو تشدد کو ہوا دیتے ہیں، انہوں نے کہا،ہم نے گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ کے دوران کافی تشدد اور خونریزی دیکھی ہے، اور ہم یہاں مزید تباہی اور ہلاکتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، اور ہم انہیں مزید ذہنی تشدد کا شکار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم پرامن ذرائع سے وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے اہم ہے۔ اس لیے میں نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کریں کہ جس سے مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔جیلوں میں مقید افراد کی رہائی پر زور دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے اعلان کیا کہ اپنی پارٹی قیدیوں کی رہائی کے لیے ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے ایک کمیٹی بنائے گی۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سلاخوں کے پیچھے بند لڑکوں کے کیس کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائیں گے۔ ہم ان کی رہائی پر زور دینے کے لیے حکومت کے پاس جائیں گے تاکہ وہ پرامن اور معمول کی زندگی گزار سکیں۔ انہیں ایک موقع ضرور دیا جانا چاہیے،اگرچہ وہ ماضی میں کچھ غلطیاں بھی کر چکے ہوں۔ ہم ان کے والدین اور محلہ کے بزرگوں کو ساتھ لے جانے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ نوجوان لڑکے جیلوں سے آزاد ہونے کے بعد اپنے خاندانوں کے ساتھ معمول کی زندگی شروع کریں۔“سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی عدالتوں کے ذریعے آرٹیکل 370اور35 اے کی بحالی کے لیے کوشش کرے گی، تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی کوئی بھی حکومت ان آئینی آرٹیکلز کو بحال کرنے کی صلاحیت یا طاقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا،صرف سپریم کورٹ کے پاس ان منسوخ شدہ قوانین کو بحال کرنے کا اختیار ہے۔ براہ کرم روایتی سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کا شکار نہ ہوں جو آپ سے جھوٹا وعدہ کرتے ہیں کہ وہ منتخب ہونے کے بعد آرٹیکل 370اور35 اے کو بحال کریں گے۔ وہ اپنے انتخابی فوائد کے لیے آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ آپ کے پاس اٹانومی اور سیلف رول کے جھوٹے وعدے لے کر آتے تھے۔ اب، وہ آپ کو آرٹیکل370واپس لینے کے جھوٹے وعدوں سے راغب کریں گے۔ ہوشیار رہو اور انہیں بتا دو کہ کافی ہوگیا اب ہم تمہارے فریب میں نہیں آئیں گے۔الطاف بخاری نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ملک کے بہترین وکلاءکی خدمات حاصل کریں گے تاکہ ان کی بحالی کے لیے لڑیں، چاہے ہمیں کروڑوں روپے کیوں خرچ کرنے پڑیں۔اپنی پارٹی کے لیڈر نے اپنے اس وعدے کو دہرایا کہ اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو سردیوں کے دوران وادی میں لوگوں کو500یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور گرمیوں کے دوران جموں کے لوگوں کو اتنی ہی مفت بجلی فراہم کرے گی۔

اس خطاب میں کی گئیں باتوں اور اُٹھائے گئے نکات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو الطاف بخاری ایک طرف تو اپنی پرانی روش کہ جو ہوگیا بھول جاﺅ کو ترک کرکے سیاسی طور پر نہ سہی لیکن قانونی چارہ جوئی سے تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی باتیں کررہے ہیں اور دوسری جانب جیلوں میں بند پڑے لوگوں کی رہائی کے لئے محلوں اور گاﺅں کے عوام کو لے کر حکام کے در پر جاجاکر دہائی دینے کا عندیہ دیتے نظر آرہے ہیں۔ پھر سردیاں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا زمانہ ہو اور لگے ہاتھوں مفت بجلی کا وعدہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی سربراہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بجلی کشمیر کے پانی سے نکلے تو نکلے لیکن اس کو مفت تقسیم کرنے کی اجازت بھی انہیں دلی ہی سے لینا پڑے گی۔ بہرحال جو لوگ1999 عیسوی میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے معرض وجود میں آنے کے واقعے کو ذہن نشین کئے ہوئے ہیں انہیں یاد ہوگا کہ گانگریس پارٹی سے نکل کر مرحوم مفتی محمد سعید اور انکی دختر نیک اختر محبوبہ مفتی نے بھی ہو بہو الطاف بخاری جیسی ہی باتیں کی تھیں اور اسی قسم کی حقیقت پسندانہ اور مقبول عوامی سیاست کا مرکب عوام الناس کے سامنے پیش کیا تھا۔ انہیں جلد ہی اقتدار ملا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی ایما اور مداخلت پر مزاحمتی خیمے کے ایک حصے نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ الطاف بخاری بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر کا پی ڈی پی نسخہ آزما کر آگے بڑھنے کی فراق میں ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جس سیلف رول کو وہ آج خواب بیچنے سے تعبیر کررہے ہیں ایک زمانے تک تو وہ خود بھی یہی چورن بیچ کر گزارا فرمارہے تھے اسلئے انہیں ایسا کرنے کا اچھا خاصہ تجربہ ضرور ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا یہ تخمینہ درست ہے کہ غلط اس بارے میں وقت ہی فیصلہ صادر فرمائے گا۔ بہرحال جو بھی ہو، اپنی پارٹی کا حالیہ سرینگر کنونشن یا جلسہ کسی تبدیلی کا آئینہ دار ضرور ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ تبدیلی کون سے سے نئے گل کھلاتی ہے۔











