امت نیوز ڈیسک ////
سرینگر:قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کی دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے جنوبی کشمیر کے پانچ افراد کو عمر قید کی سزا جبکہ ایک کو پانچ سال اور نقدی جرمانے کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان ملزمان پر سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے اور عسکریت پسندوں کو مدد کرنے کے جرائم ثابت ہوئے ہیں۔
عمر قید کی سزا پانے والے شخص کے رشتہ داروں نے سرینگر میں انصاف کی اپیل کیواضح رہے کہ نئی دہلی میں کیس کی شنوائی پیر کے روز ہوئی ہے جس دوران 6 ملزمان کو عدالت میں حاضر رکھا گیا تھا۔ اس دوران عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ اور اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے 6 ملزمان کو مجرام قرار دیا ہے۔
این آئی آے کے بیان کے مطابق سجاد احمد خان ولد غلام نبی خان ساکن ہندورہ ترال، بلال احمد میر ولد فاروق احمد میر ساکن گڈپورہ ترال، مظفر احمد ولد عبدالغنی بٹ ساکن مونگہامہ ترال، اشفاق احمد بٹ ولد عبدالمجید بٹ ساکن کھلپورہ، مرہامہ اننت ناگ، معراج الدین چوپان ولد غلام رسول چوپان، ہندورہ ترال کو عدالت نے عمر قید کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔کورٹ نے ایک اور ملزم تنویر احمد گنائی ولد غلام محی الدین گنائی ساکن مدورہ کو پانچ سال کی قید اور جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
این آئی اے کے مطابق یہ افراد جیش محمد عسکری تنظیم کے ہدایات پر بھارت میں مخصوص مقامات پر حملے کرنے کی سازش کر رہے تھے۔
وہیں ان ملزمین میں سے ہندورہ ترال کے معراج الدین چوپان کی اہلخانہ نے آج سرینگر کی پریس کالونی میں احتجاج کیا اور انتظامیہ سے معراج کو معاف کرنے اور رہا کرنے کی اپیل کی۔
اہلخانہ کے مطابق 22 برس کے معراج الدین کو سنہ 2018 میں سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرکے تہاڑ جیل میں قید کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ان کے بھائی کے وکیل کے ذریعے اطلاع ملی کہ معراج الدین کو عمر قید کے سزا سنائی گئی ہے۔
وہیں ان ملزمین کے وکیل امہ سلمہ نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ وہ دہلی کے ہائی کوٹ یا سپریم کوٹ میں این آئی اے کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں جج شیلندر ملک نے ان ملزمین پر رحم نہ کرکے سخت سزا سنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہمیں یقین ہے کہ سپریم کوٹ یا دہلی ہائی کوٹ سے انہیں انصاف ملے گا۔”











