ادیس ابابا: اسرائیلی وزارت خارجہ نے ادیس ابابا میں افریقی یونین کے سربراہان مملکت کے 36 ویں سربراہی اجلاس کےدوران کل ہفتے کے روز ایک اسرائیلی سفارت کار کو نکالے جانےکا اعتراف کیا ہے۔
سوشل نیٹ ورکس پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ادیس ابابا میں افریقی یونین کے سربراہ اجلاس کے باہر اسرائیلی وزارت خارجہ میں افریقی امور کے نائب شیرون بار لی کو محافظوں کی حفاظت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر شائع ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ وزارت میں افریقی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر شیرون بار لی کو ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں اس ہال سے نکال دیا گیا جس میں افریقی یونین کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔
وزارت نے اشارہ کیا کہ بار لی کو انٹری بیج کے ساتھ بطور مبصر کی حیثیت کے باوجود نکال دیا گیا اور مزید کہا کہ وہ اس واقعے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے مزید تفصیلات بتائے بغیر اس واقعے کے پیچھے الجیریا اور جنوبی افریقہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا، انہوں نے افریقی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افریقی یونین اور پورے بر اعظم کو نقصان پہنچانے والے ان اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
Support the AU action but why let the Israeli zionists in in the first place?#AfricanUnion #Israel #HumanRights https://t.co/EX46KB7tYu
— flowa (@lucianbelle) February 19, 2023
اسرائیل نے کئی دہائیوں کی سفارتی کوششوں کے بعد 2021 میں افریقی یونین میں مبصر کا درجہ حاصل کیا۔ اس نے جنوبی افریقہ اور الجزائر جیسے بلاک کے بااثر ارکان کی طرف سے احتجاج کو جنم دیا، جنہوں نے کہا کہ یہ فلسطینیوں کی حمایت میں افریقی یونین کے موقف سے متصادم ہے۔










